منگل‬‮ ، 25 جون‬‮ 2024 

ایک سال کے دوران پاکستانی روپیہ ایشیا کی بہترین کرنسی قرار

datetime 27  مئی‬‮  2024
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ایشیاء کی بہترین کرنسی کے طور پر ابھرا ہے، جس میں روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے 8 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی آمد نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مرکزی بینک نے بتایا کہ ستمبر2020 میں روشن ڈیجیٹل اکائونٹ متعارف کرانے کے بعد سے اب تک 45 ماہ میں اوورسیز پاکستانی اس کے ذریعے 8 ارب ڈالر سے زائد کی رقم بھیج چکے ہیں، عیدالاضحی قریب آنے کی وجہ سے آر ڈی اے کی آمد میں تیزی ریکارڈ کی جارہی ہے، کیوں کہ اوورسیز پاکستانی اپنی فیملیوں کو سپورٹ کرنے کیلیے رقوم بھیج رہے ہیں۔

ٹاپ لائن ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق ایم ایس سی آئی ایشیاء ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئرز مارکیٹ انڈیکس میں پاکستانی کرنسی گزشتہ ایک سال کے دوران 3.1 فیصد بہتری کے ساتھ 278.12 روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے، روپے کی قدر میں بہتری کی بنیادی وجوہات میں آر ڈی اے انفلوز، ترسیلات زر، مستحکم ایکسپورٹ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر ممالک سے قرضوں کا حصول اور قرضوں کا رول اوور ہونا ہے۔ایشیا میں دوسرے نمبر پر سری لنکن کرنسی میں 2.7 فیصد کی بہتری دیکھی گئی جبکہ باقی تمام ممالک بشمول بھارت، چین، ویتنام اور بنگلہ دیش کی کرنسیوں میں 5.6 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی ہے، اگرچہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستانی کرنسی کی قدر 278 تا 278.50 روپے فی ڈالر کی حد تک مستحکم رہی ہے، لیکن اس کے باجود ماہرین کرنسی کی اصل قدر سے متعلق تقسیم کا شکار ہیں۔متعدد کرنسی ڈیلروں نے کہاکہ اگر مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ سے کرنسی نہ لی ہوتی تو روپے کی قدر 240 سے 250 روپے تک ہوتی، ماہرین کے دوسرے گروہ نے بتایاکہ روپے کی قدر امپورٹ پر پابندیاں لگا کر بڑھائی جارہی ہے، جس سے ملک میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

ٹریس مارک کے مطابق جولائی کے بعد ہر ماہ روپے کی قدر میں 2 سے 3 روپے کی کمی ہوگی، جبکہ آئی ایم ایف نے اگلے 13 ماہ میں روپے کی قدر 329 روپے تک گرنے کا تخمینہ ظاہر کر رکھا ہے۔ایک مالیاتی ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان آر ڈی اے انفلوز لانے کیلیے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر بہت زیادہ منافع دے رہا ہے، جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اپریل میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ایک دھوکا ہے، دراصل چونکہ پاکستان نے غیر ملکی کمپنیوں کے منافع جات اپنے ملکوں کو منتقل کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے، اس وجہ سے وہ کمپنیاں پاکستان میں ہی سرمایہ کاری پر مجبور ہیں، جس کو غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے طور پر ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم پاکستان جب بھی منافعے کی واپسی اور امپورٹ کو معمول پر لائے گا تو روپے کی قدر تیزی سے کم ہوگی۔



کالم



اگر کویت مجبور ہے


کویت عرب دنیا کا چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ صرف 17 ہزار…

توجہ کا معجزہ

ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ’’میرے پاس کوئی…

صدقہ‘ عاجزی اور رحم

عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر پاک و ہند کے نامور…

شرطوں کی نذر ہوتے بچے

شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…