پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس ، ایف بی آر کی ماہانہ ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی ،مارچ میں 325 ارب روپے کا ٹیکس وصول

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)کورونا وائرس سے ایف بی آر کی ماہانہ ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی ،ایف بی آر نے مارچ میں 325 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا ۔ذرائع کے مطابق مارچ میں ایف بی آر کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 525 ارب روپے تھا۔ ذرائع کے مطابق مارچ میں ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں 38 فیصد یا 200 ارب روپے کی کمی ہوئی ۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے

9 ماہ میں 3050 ارب روپے ٹیکس جمع کر لیا ۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولی ہدف سے 470 ارب روپے کم رہی۔ذرائع کے مطابق ملک میں معاشی سرگرمیوں میں کمی کے باعث رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف 55 ہزار ارب روپے سے کم کر کے 52 ہزار ارب روپے کم کر دیا گیا تھا۔ حکام ایف بی آر نے بتایاکہ کورونا وائرس سے پیدا معاشی بحران کی وجہ سے ٹیکس ریونیو پر منفی اثر پڑا، نظرثانی شدہ سالانہ ہدف پورا کرنے کئے آخری سہہ ماہی میں 2178 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنا ہوگا ۔ذرائع نے بتایاکہ کورونا وائرس کے باعث غیر سرکاری اندازہ کے مطابق آئندہ سہ ماہی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 300 ارب روپے کی کمی آ سکتی ہے ،حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کورونا وائرس کے باعث رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا نیا نظر ثانی شدہ ٹیکس ہدف 10 اپریل تک طے پانے کا امکان ہے ،رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سیلز ٹیکس 20 فیصد اضافہ کے ساتھ 1250 ارب روپے حاصل کیے گئے ۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ انکم ٹیکس وصولی 16 فیصد اضافہ کے ساتھ 1139 ارب روپے رہی ۔ذرائع نے بتایاکہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں کسٹم ڈیوٹی 7 فیصد کمی کے ساتھ 471 ارب روپے رہی جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 188 ارب روپے حاصل کیے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…