جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

چھالیہ کی فی کلوقیمت بڑھ کر 2400 روپے ہوگئی

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)اوپن مارکیٹ میں چھالیہ فی کلوقیمت میں دو ہزار 80 روپے تک کا اضافہ ہوگیا چھالیہ کی مصنوعی قلت پیدا ہونے کے باعث ویلیو ایڈ چھالیہ بنانے والی فیکٹریوں میں پیداوار کا کام بند ہوگیا ہے اور پیکٹ میں دستیاب چھالیہ کی قیمت ایک روپے بڑھ کر دو روپے ہوگئی ہے اوپن مارکیٹ میں چھالیہ کی فی کلو قیمت 320 روپے سے بڑھ کر 2 ہزار 4 سو روپے تک پہنچ گئی ہے ۔

چند ماہ سے چھالیہ کی قیمت میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے جس کی بنیادی وجہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے درآمدی چھالیہ کے لیے اجازت نہ دینا ہے پلانٹ پروٹیکشن کے مطابق ملک میں غیر معیاری چھالیہ درآمد ہورہی ہے درآمدی چھالیہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے اس صورتحال میں بندرگاہ پر درآمدشدہ چھالیہ کے 60 سے زائد بھرے کنٹینر کھڑے ہیں جن کو ریلیز نہیں کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب اسمگلر نے صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دبئی سے چمن چھالیہ درآمد کرنا شروع کردی ہے جو اسمگلنگ کے ذریعے پورے ملک میں مہنگے داموں فروخت ہورہی ہے ایوان تجارت و صنعت کراچی کے سابق صدر حاجی شفیق الرحمن نے کہا کہ ملک میں چھالیہ کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کا ذمہ دار پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ ہے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے وفاقی حکومت کے فیصلے بھی ماننے سے انکار کردیا اس صورتحال میں چھالیہ اسمگلنگ بڑھ گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…