جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بٹ کوائن کی ایک ہی رات میں لمبی چھلانگ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن ( آن لائن )دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سائبر کرنسی بٹ کوائن نے ایک بار پھر 6 ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا ہے۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی اس ورچوئل کرنسی نے چھ ہزار کی حد کو عبور کیا تھا مگر

پھر وہ نیچے گرگئی تھی تاہم گزشتہ شب وہ ریکارڈ 6308 ڈالرز تک پہنچی اور اب 6160 ڈالرز (لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ پاکستانی روپے) کے قریب ٹریڈ ہورہی ہے۔اس کرنسی نے اگست میں چار ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کیا تھا مگر اس کے بعد اس کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ چین کی جانب سے ورچوئل کرنسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان اور روس کا ایسا عندیہ تھا، مگر پھر اس کی قیمت میں اضافہ ہوا اور رواں ماہ پہلی بار 5 ہزار ڈالرز سے اوپر گئی۔اس کی قیمت میں اچانک حالیہ اضافہ کی وجہ واضح نہیں حالانکہ اسے گزشتہ ہفتے دو حصوں میں تقسیم بھی کیا گیا تھا۔ویسے اس ورچوئل کرنسی کے ایک سکے سے آپ 12 تولے سے زیادہ سونا خرید سکتے ہیں اور اس کی قدر میں رواں سال کے دوران 500 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے، اور 2017 کے آغاز میں اس کی قیمت صرف 966 ڈالرز تھی۔واضح رہے کہ بٹ کوائن کا استعمال اشیاء4 اور سروسز کو ادائیگی

کے حوالے سے لوگوں کو بینکوں اور ادائیگی کے روایتی پراسیس کو بائی پاس کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔بٹ کوائن اور دیگر ایسی ہی ورچوئل کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ان

خدشات کے باوجود تھم نہیں سکا کہ یہ قیمتیں اچانک زمین پر بھی گرسکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی سکیل ایبلیٹی اور ٹرانزیکشن کے لیے تیز پراسیس نے اس کی قیمت میں نمایاں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…