منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

عالمی سطح پر تبدیلیاں،روس نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

datetime 27  اگست‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) روس کے سبکدوش ہونے والے قونصل جنرل اولیک ایویدیونے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت کا حجم 50 کروڑ ڈالر ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے ماضی کے مقابلے میں موجودہ دور میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور روس پاکستان کے ساتھ دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے

پاک رشیا بزنس کونسل آف ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین محمد فاروق افضال کی جانب سے ان کے اعزاز میں دئیے گئے الوداعی عشائیے سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر امریکہ سمیت ، کوریا ،سوئزرلینڈ ، سلطنت آف عمان ، بنگلہ دیش اور ویتنام کے سفارت کاروں کے علاوہ ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل ، شمیم فرپو ، عامر عطا باجوہ ، سابق مشیر عبدالحسیب خان ، قاضی اسد عابد ، مرزا ختیار بیگ ، مرزا اشتیاق بیگ ، گلزار فیروز ، اسماعیل ستار، وحید احمد ،( ریٹائرڈ) جنرل تنویر نقوی ،( ریٹائرڈ )جنرل جاوید ضیاء ، مصطفی کمال قاضی ، ایئر مارشل( ریٹائرڈ) ریاض الدین شیخ ، وسیم وہرہ ، آصف زبیری ، سمیر میر شیخ ، شمعون زکی ، اطہر اقبال ، شاہد جاوید قریشی ودیگر بھی موجود تھے روس کے قونصل جنرل نے کہا کہ کراچی میں تعیناتی کے دوران بزنس کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مکمل تعاون کیا ہے جس کے لئے وہ تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں ۔ اس موقع پر قونصل جنرل اولیک ایویدیونے  کہا کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ دور میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور روس پاکستان کے ساتھ دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے

 



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…