جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چینی کی سپلائی تاحال معطل، مارکیٹ میں چینی نایاب ہوگئی

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)شوگرملرز کی جانب سے چینی کی سپلائی تاحال معطل ہے،جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی نایاب ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق شوگرملز سے چینی کی سپلائی تیسرے دن بھی معطل رہی ، مارکیٹ سے چینی غائب ہے اور چینی صرف یوٹیلیٹی اسٹوز اور بڑے اسٹوز پردستیاب ہے۔ہول سیل بازار میں فی کلو چینی ایک ہفتے میں8روپے مہنگی ہوچکی ہے، 47 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت55روپے تک جا پہنچی ہے،

ریٹیل سطح پر بھی چینی کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔کراچی کی مارکیٹ میں بھی چینی کی قلت کا سامناہے، کراچی ڈیلرز کے مطابق شوگر ملز کی جانب سے مل کی سپلائی روک دی گئی ہے ، جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔کراچی ہول سیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق چینی مارکیٹ سے غائب ہونے سے ہول سیل مارکیٹ میں چینی 55 روپے کلو جبکہ ریٹیل کی سطح پر 64 روپے کلو تک پہنچ گئی، دکانداروں کے مطابق چینی کی سپلائی معطل ہونے سے قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔یاد رہے تین روز قبل شوگر ملز مالکان نے پیداوار ی لاگت میں اضافے کو جواز بنا کر مارکیٹوں میں چینی کی فراہم بند کر دی تھی، مالکان کا کہنا ہے کہ چینی کی تیاری کی لاگت کے مقابلے میں فروخت کے نرخ بہت کم ہیں اور حکومت چینی کی ایکسپورٹ پر سبسڈی بھی نہیں دے رہی۔شوگرملرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کہ چینی کی سپلائی کا معاملہ ایجنٹس اور ہول سیلرز کے درمیان ہے، ایسوسی ایشن کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تاہم مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، حکومت نوٹس لے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…