پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں بغیر پٹرول کے چلنے والی تین موٹر سائیکلیں متعارف۔۔ فیچرز انتہائی حیران کن ، خرچہ نہ ہونے کے برابر!!

datetime 13  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں پہلی بار الیکٹرک موٹر سائیکل کی تیاری مقامی طور پر شروع ہوگئی ہے اور ایک کمپنی نے مقامی وسائل سے کامیابی سے ای بائیک کی تیاری کی ہے۔جولٹا انٹرنیشنل نامی کمپنی نے حال ہی میں گوادر میں الیکٹرک موٹرسائیکلوں کے تین ماڈل پیش کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی پاکستان میں بجلی سے چلنے والی موٹرسائیکلوں کے تین مختلف ماڈل ای 70، ای 100 اور 125 موٹر سائیکلز

فروخت کیلئے پیش کر چکی ہے۔کمپنی کے مطابق اس موٹر سائیکل کا بنیادی ماڈل یعنی ای 70 پاکستان میں لگ بھگ 35 سے 40 ہزار روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔عام موٹرسائیکلوں کی طرح کی اس بائیک کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماحول دوست، ایندھن فری، اسموک فری، بے آواز اور آلودگی نہیں پھیلاتی۔ای 70 کو بجلی سے پانچ گھنٹے میں چارج کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک چارج پر 50 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرسکے، جبکہ اس کی سنگل چارج پر بجلی کا خرچہ 15 روپے ہوگا۔اسی طرح ای 100 کو چارج ہونے کے لیے چھ گھنٹے درکار ہوں گے، جبکہ یہ ایک چارج پر 70 کلومیٹر تک سفر کرسکے گی، اس کی چارجنگ کا خرچہ 20 روپے ہوگا، تاہم ابھی تک اس بائیک کی قیمت طے نہیں کی جاسکی ہے۔ای 125 کا چارجنگ ٹائم سات سے آٹھ گھنٹے، سنگل چارج پر 120 کلومیٹر کا فاصلہ، چارجنگ کا خرچہ 32 روپے جبکہ اس کی بھی قیمت طے نہیں ہوسکی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران مزید موٹرسائیکلیں فروخت کے لیے پیش کردی جائیں گی اور اس وقت ممکنہ طور پر ان کے فیچرز میں بھی اضافہ یا بہتری کی جاسکتی ہے۔کمپنی پہلے ہی گوادر فری زون کمپنی کو ڈھائی ہزار ایسی موٹرسائیکلیں فراہم کرنے کا معاہدہ کرچکی ہے تاکہ اس خطے کو آلودگی سے پاک رکھا جاسکے۔

Jolta-Bike-768x461 Jolta-E-Bike-768x461

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…