منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے،پی ایس ایل میں کافی سخت مقابلہ ہو گا،ریسی ون ڈر ڈسن

datetime 16  فروری‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل جنوبی افریقی کرکٹر ریسی ون ڈر ڈسن نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ 8 میں ٹیموں کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں کافی سخت مقابلہ ہوگا، ابتدائی دو میچز میں ہونے والے مقابلے نے اس کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس بات کی خوشی ہے کہ

وہ بالآخر پاکستان سپر لیگ کھیل پا رہے ہیں کیوں کہ اس سے پہلے دو بار منتخب ہونے کے باوجود بھی وہ کسی نہ کسی وجہ سے لیگ کھیلنے سے محروم رہ گئے تھے۔پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور وہ اس چیلنج کے لیے کافی پرجوش ہیں، یہاں پہلے ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں، گو کہ وہ مختلف بال کی کرکٹ تھی مگر اس سے کنڈیشنز کا اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں کس طرح بیٹنگ کرنی ہے۔جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ انہیں پاکستان پسند ہے اور یہاں کے لوگ کافی مہمان نواز ہیں، پہلے کورونا وائرس سے متعلق پابندیاں تھیں لیکن اس بار ان کے پاس موقع ہے کہ وہ لوگوں سے ملاقات کر سکیں۔ریسی ون ڈر ڈسن نے کہا کہ اسلام آباد کی ٹیم جارح مزاج کرکٹ کھیلتی ہے، ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اسلام آباد کے برانڈ آف کرکٹ کے سانچے میں خود کو ڈھالیں، ٹیم کے لیے تسلسل کے ساتھ پرفارم کریں۔ان کا کہنا ہے کہ انفرادی اہداف زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں، زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اس اسکواڈ کا حصہ ہوں جو ٹائٹل جیتیں، کوشش ہو گی کہ ذمے داری کے ساتھ ٹورنامنٹ میں ایسی کارکردگی دکھائیں جس سے ٹیم کو فائدہ ہو۔ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹر نے کہا کہ پی ایس ایل میں تمام ٹیمیں مضبوط ہیں، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سی ٹیم زیادہ اچھی ہو گی، ہر ٹیم کے پاس بہتر سے بہتر بولنگ اٹیک ہے اور اس صورتحال میں یہ لیگ بیٹرز کے لیے کافی چیلنجنگ ہو گی۔ریسی ون ڈر ڈسن نے مزید کہا کہ وہ پی ایس ایل کو ہمیشہ فالو کرتے رہے ہیں،

دیگر پلیئرز سے بھی لیگ کے بارے میں بات ہوئی اور ہر کسی نے اس کو اعلی معیار کی لیگ قرار دیا، یہاں ہر ٹیم کے پاس ایسے بولرز ہیں جو تسلسل کے ساتھ 140 کی رفتار سے بولنگ کر سکتے ہیں، ٹاپ کلاس اسپنرز اور اچھے بیٹسمین بھی ہیں۔ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹسمین نے کہا کہ ماضی میں ہر لیگ کی چمپئن ٹیم کے درمیان ہونے والا چیمپئنز لیگ زبردست ٹورنامنٹ تھا، اگر ایسا ٹورنامنٹ دوبارہ ہوا تو مزہ آئے گا، دنیا بھر کی لیگز کھیل کر پلیئرز کو فائدہ ہوتا ہے مگر ہر پلیئر کی ترجیح انٹرنیشنل کرکٹ ہی ہوتی ہے کیوں کہ ہر کوئی اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہے، ضروری ہے کہ لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں توازن برقرار رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…