بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

یورپ خود کو منظم کرے تو پناہ گزینوں کو ضم کر سکتا ہے‘ اقوام متحدہ

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

امریکہ (نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے ہائی کمشنر نے یورپی اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پناہ دینے کے غیرفعال اور بدنظمی کے شکار نظام کی سربراہی کر رہا ہے۔ ہائی کمشنر انٹونیو گونٹارش نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد اتنا وسیع ہے کہ اگر خود کو منظم کرے تو اپنی سرحدوں میں آنے والے پناہ گزینوں کو ضم کر سکتا ہے۔ امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق انٹونیو گونٹارش نے پیرس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یورپی اتحاد مسئلے کو وقت سے پہلے دیکھنے میں ناکام رہا یا مربوط انداز میں نمٹ نہیں سکا۔ ’ 28 ممالک کے اتحاد کی پچاس کروڑ 80 لاکھ آبادی ہے اور اس کے پاس اتنے وسائل اور جگہ ہونی چاہیے کہ یہ آرام سے نئے آنے والے لاکھوں افراد کو ضم کر سکے۔‘ انھوں نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلے میں بلاضرورت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یورپ اتنا منظم نہیں ہے کہ اس سے نمٹ سکے کیونکہ اس کا پناہ دینے کا نظام بری طرح غیر فعال ثابت ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں مکمل طور پر بدنظمی کا شکار نظر آیا ہے۔ ’اگر یورپ مناسب طور پر خود کو منظم کر لیتا ہے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘ دوسری جانب جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے متعلق بنیادی کوٹے میں اتفاق رائے ہونا ابھی بہت دور کی بات ہے تاہم کوٹے کی مخالفین کے موقف میں نرمی آئی ہے۔ توقع ہے کہ یورپی کمیشن کے سربراہ ڑان کلاڈ جنکر بدھ کو رکن ممالک میں لازمی طور پر 160,000 پناہ گزین تقسیم کرنے کی تجویز پیش کریں گے انھوں نے کہا ہے کہ پناہ دینے کا بنیادی کوٹہ اس جانب پہلا قدم ہے کہ یورپی اتحاد کا ہر ملک کتنے پناہ گزینوں کو اپناتا ہے۔ انھوں نے سویڈن کے وزیراعطم سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق یورپی کمیشن کی تجاویز پہلا اہم قدم ہے اور یورپی یونین کو پناہ کا حق رکھنے والوں کو رکھنے کے حوالے سے بنا کسی حد بندی کے نظام کو اپنانا چاہیے۔ دریں اثنا سپین اور پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے منصوبے کے برعکس اب زیادہ پناہ گزینوں کو رکھنے پر تیار ہے۔ اس سے پہلے جرمنی کے نائب چانسلر سگمار گیبریئل نے کہا ہے کہ جرمنی کئی برسوں تک ہر سال پناہ کے طلب گاروں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ سگمار گیبریئل نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ یورپی ممالک کو اس کا منصفانہ حصہ لینا چاہیے۔ حکام کے مطابق صرف سنہ 2015 میں 800,000 پناہ گزینوں کی تعداد متوقع ہے اور یہ 2014 کے اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی یو این ایچ سی آر کہتی ہے کہ شامی گزینوں کی ریکارڈ تعداد سوموار کو مقدونیہ پہنچی اور تقریباً 30,000 تارکینِ وطن یونان کے جزیروں پر موجود ہے۔ تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے یورپی حکومتوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے اور فوری ردِ عمل پر مجبور کر دیا ہے۔ ہنگری کی قدامت پسند قیادت سرحدوں پر باڑ لگا رہی ہے تاکہ پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکا جا سکے جبکہ جرمنی کی حکومت اس بات پر فخر محسوس کر رہی ہے کہ اس کے عوام کے ہجوم پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے آ رہے ہیں۔ یونان کے وزیر نے سوموار کو کہا تھا کہ ترکی کے ساحل کے نزدیک یونان کا لیزبوس جزیرہ تارکینِ وطن کے بوجھ سے تقریباً ’پھٹنے‘ والا ہے کیونکہ وہاں سے کم از کم 20,000 تارکینِ وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت اور یو این ایچ سی آر نے تارکینِ وطن کی مدد کے لیے اضافی سٹاف اور کشتیوں کا بندوبست کیا ہے۔ پناہ گزینوں کے مسئلے نے یورپی یونین کو تقسیم کر دیا ہے توقع ہے کہ اس سال جرمنی میں 800,000 تارکینِ وطن آئیں تاہم سگمار گیبریئل کہتے ہیں کہ لمبی مدت کے لیے مزید لوگوں کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے جرمنی کے زی ڈی ایف ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم کئی برسوں تک 500,000 افراد تک یقیناً لے سکتے ہیں۔‘ ’مجھ اس بارے میں کوئی شک نہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔‘ انھوں نے کہا کہ جرمنی غیر متناسب حصہ لے سکتا ہے لیکن یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک بھی اپنا حصہ ڈالیں۔ یو ایچ سی آر نے بھی تارکینِ وطن کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق 2015 میں سمندر کے راستے یورپ میں 400,000 تارکینِ وطن متوقع ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر شامی باشندے ہیں اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر اردن اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں برے حالات کی وجہ سے یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ توقع ہے کہ یورپی کمیشن کے سربراہ ڑان کلاڈ جنکر بدھ کو رکن ممالک میں لازمی طور پر 160,000 پناہ گزین تقسیم کرنے کی تجویز پیش کریں گے جو کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب واحد حل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں پر خصوصی مندوب پیٹر سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ’تاریخ اسے یورپ کے اہم موڑ کے طور پر دیکھے گی۔‘ ہنگری، جمہوریہ چیک، سلوینیا اور رومانیا نے کوٹہ کے خیال کو ہی یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہ مسئلہ ہنگری میں سیاسی بحران بنتا جا رہا ہے۔ سوموار کو اس کے وزیرِ دفاع سابا ہیندے نے استعفیٰ دے دیا اور اس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق سرحد پر لگائی جانے والی باڑ سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…