اسلام آباد(نیوزڈیسک) اگر الیکشن کمیشن کے ارکان اپنی5 سالہ آئینی مدت سے 9ماہ قبل مستعفی ہوبھی جاتے ہیں تو بھی تحریک انصاف کا ان کے جانشینوں کی تقرری میں آئین کے تحت کوئی کردار نہیں ہوگا۔ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا اختیارصرف وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو بذریعہ مشاورت ہے، اور اس ضمن میں کسی اور پارلیمانی فریق کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن کے موجودہ ارکان جسٹس(ر) فضل الرحمٰن (بلوچستان)، جسٹس (ر) شاہزیب اکبر(خیبرپختونخوا)، جسٹس(ر) ریاض کیانی (پنجاب)، جسٹس(ر) روشن عیسانی (سندھ) کا تقرر 10جون 2010میں کیا گیا تھا اور 2016میں یہ ارکان اسی روز ریٹائر ہونگے، متذکرہ ارکان ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز ہیں۔ رونامہ جنگ کے معروف صحافی طارق بٹ کی رپورٹ کے مطابق ان ارکان کا تقرر اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی مشاروت سے ہوا تھا۔ یہ سمجھا جاتا ہےکہ آئینی طور پر تحریک انصاف کا ان ارکان کی تقرری میں کوئی کردار نہ ہونے کے باوجود بھی وزیر اعظم نواز شریف، تحریک انصاف کے دباؤ پر ان کی جانب سے مستعفی ہونے کی صورت میں، تحریک انصاف اور یگر پارلیمانی جماعتوں کو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری پر اعتماد میں لینگے۔ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی دیگر اصلاحات سمیت الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے ارکان نےاپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیا اور کے عہدوں پر فوری طور پر تقرری ہوبھی گئی تو بھی کچھ سیاسی جماعتوں کے غیر لچکدار اور پیچیدہ روئیے کے باعث اس مشق کو مکمل کرنے میں خاصہ وقت لگے گا۔ اگر آئندہ ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے دوران ان ارکان کی تقرری نہ کی گئی تو واضح نہیں کہ کس قسم کا آئینی خلاء اس سے پیدا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل218کے مطابق قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے سمیت دیگر سرکاری عہدوں پر تقرری کیلئے انتخابات مستقل الیکشن کمیشن تشکیل دے کر کرائے جائینگے۔ الیکشن کمیشن ایک چیف الیکشن کمشنر اور چار ارکان پر مشتمل ہوگا، چیف الیکشن کمیشن ادارے کا سربراہ ہوگا۔ آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ اور قانون کے مطابق انتخابات کا انعقا د الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کا تقرر نہیں کیا گیا اور ان کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کرادئیے گئے تو انہیں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے ، جہاں یہ دلیل دی جائیگی کہ الیکشن کمیشن نامکمل ہونے کے باعث انتخابات کرانے کا مجاز نہیں ہےاور اس لیے اس عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے حوالےسے اتفاق رائے کرنے میں ناکام رہے تو وہ اپنی سفارشات فیصلے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرینگے۔ حالانکہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کیلئے تحریک انصاف سیمت دیگر پارلیمانی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے ان سے مشاورت کرینگے ، لیکن عمران خان کی جانب سےسابقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا امکان ہے جوکہ انہوں نے فخر الدین جی ابراھیم کے معاملے میں اختیار کیا تھا، جب انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کیلئے اس وقت کے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشاورت کی تو انہو ں نے ان کی تعریف کی لیکن بعد میں انہوں نے ان پر تنقید کی اور انتہائی معزز ریٹائرڈ جج کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کی جانب سے مستعفی ہونے کی صورت میں ان کی تقرری کے عمل کے دوران تحریک انصاف سے مشاروت کے باوجود پی ٹی آئی کو اس معاملے کو حتمی رائے کا اختیار نہیں دیا جائیگا
الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری میں تحریک انصاف کا کوئی آئینی کردار نہیں ہوگا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
معرکہ حق، چین نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کردی
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
سی ڈی اے نے 98 غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی فہرست جاری کر دی
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ! حکومت نے والدین کی بڑی مشکل آسان کردی
-
امریکی حکومت خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر لے آئی



















































