اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر گناہوں کو معاف کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجودامریکہ کی جانب سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کیا جارہا ہے، حافظ حسین احمد

datetime 17  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ / اسلام آباد( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ امریکہ سے باضابطہ ’’معافی ‘‘ کے لیے حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کے قائدین کرام کو امریکی سفارتخانہ کی جانب ’’معافی مارچ‘‘کرنا ہوگا

تاکہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی معیشت کو ’’گود ‘‘ لینے پر راضی کیا جائے۔ وہ جمعہ کو جامعہ مطلع العلوم میں خطبہ جمعہ اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور عائشہ غوث کے امریکی سفارتخانہ کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا کہ امریکہ نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر پاکستان کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کو معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنی پرانی روش اور تکیہ کلام ’’ڈومور‘‘ کو بھولا نہیں اس لیے وہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور عائشہ غوث کی امریکی سفارتخانہ حاضری اور باضابطہ معافی سے مطمئن نہیں ہوگا جب تک پاکستا ن کی متحدہ حکومت ریاستہائے متحدہ امریکہ سے بنفس نفیس کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی نہیں مانگے گی تب تک کشکول میں بھیک کے نوے کروڑ ڈالر نہیں ڈالے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے تو پہلے اپنی پوزیشن واضح کردی تھی کہ ہم بھکاری ہیں اور بھکاری کی صرف ہاتھ پھیلانے کے سوا اور کوئی ترجیح نہیں ہوتی ۔ حافظ حسین احمد نے توقع ظاہر کی کہ امریکہ سے باضابطہ معافی کے لیے حکومت میں شامل پارٹیاں جلد ’’معافی مارچ‘‘ کا اعلان کریں گی اور اس مارچ کو بھی ’’جہاد‘‘قرار دیکر اس سے انحراف کو بھی گناہ کبیرہ قرار دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال رینٹل آزادی اور مہنگائی مارچ کے جہاد کے بعد اب مال غنیمت لوٹنے اور ’’ہنی مون‘‘ کا سیزن ہے بائیس کروڑ باراتیوں یعنی عوام کی سہولت کی فراہمی کا کام بعد میں شروع کیا جاسکتا ہے کیوں کہ عجلت کو تو شیطان کا کام قرار دیا گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…