اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

تھر میں جاں بحق بچوں کی تعداد ۱۷۴ ہو گئی

datetime 11  دسمبر‬‮  2014 |

تھرپارکر۔۔۔۔۔تھرپارکر میں غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ نہ رک سکا۔ اکہتر روز میں غذائی قلت سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد ایک سو چوہتر ہو گئی۔ خواتین سمیت متاثرین کی بڑی تعداد امدادی سامان کی تلاش میں خوار ہوتی پھر رہی ہے۔ غذائی قلت ، بیماریوں ، اور غربت نے تھر باسیوں کی زندگی مشکل بنا دی۔ ہر روز ایک نیا امتحان ، ہر شام ایک نئی شام غریباں ، پھول سے بچے موت کو خراج ادا کرنے میں سب سے آگے ہیں ، روزانہ ماؤں کی گود اجڑ رہی ہے اور وہ بے بسی کے ساتھ دکھ اور غم کی تصویر بن کر رہ گئی ہیں۔ اجل ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ موسمی تبدیلی بھی غذائی قلت کا شکار بچوں کے لیے وبال بن گئی ہے۔ ہسپتال میں دوائیں ناپید ، سہولتوں کا فقدان ، متاثرین کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے ، گھنیسر ہسپتال میں غذائی قلت کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار 13 بچے داخل ہیں۔ چھاچھرو اور گرد و نواح کے دیہات میں امدادی سامان کی ا س پر خواتین سمیت متاثرین کی بڑی تعداد خوار ہو رہی ہے۔ ہزاروں خاندانوں کے محروم رہنے کے باوجود سندھ حکومت نے امدادی گندم کی تقسیم کا اگلا مرحلہ شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ، چھاچھرو اور ڈاھلی تحصیلوں میں سرکاری گندم ایک ماہ سے بند ہے۔ چھاچھرو کے کئی علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں ، سیکڑوں دیہات میں پانی کے بحران سے لوگ بوند بوند کو ترس رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ابھی تک پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع نہیں کیا ہے۔ متاثرین کے لیے امداد ، ادویات ، پینے کے صاف پانی کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور متاثرین کے لیے امداد کا حصول بھی خواب بن کر رہ گیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دعوؤں کے برعکس ان کی عملی امداد کو ممکن بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…