ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

بھارتی مزدور جو جہاز سے آتے ہیں اور اے سی کوچ میں واپس گھرجاتے ہیں

datetime 19  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل اسائنمنٹ :فیصل ظہیر)لیہہ کی کسی گلی سے گزرتے ہوئے آپ کے کانوں میں اگر “اگلے والی جان مارےل” جیسا سزا نغمہ سنائی پڑے تو کوتوہل ہونا فطری ہے. ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا آپ لیہہ قیام کے دوران ایک دکان میں چل رہے گفتگو نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ،کا چیز، کا بیس روپے، ارے اجیرن ہو جائی. یہ لیہہ کا سکمپاری علاقہ ہے، جہاں لیہہ میں ایک چھوٹا بہار بستا ہے ‘. میں بھی اس بات چیت میں شامل ہو گیا. اور پھر جو حقیقت ہاتھ لگے اس سے پتہ پڑا کہ لیہہ کیوں بہاری مزدوروں کی جنت ہے۔لیہہ میں موثر مزدوروں کی کمی ہے.

مزید پڑھے: عمرا ن خان اورریحام خان میں دوریاں ،دونوں الگ الگ کیوں رہ رہے ہیں ؟ ایک دلچسپ انکشاف

 

جس کی تکمیل نیپال اور بہاری مزدور کرتے ہیں، پر اس میں بڑا حصہ بہاری مزدوروں کا ہے،لیہہ میں جہاں کہیں بھی تعمیر چل رہا ہو آپ وہاں آسانی سے بہاری مزدوروں کو کام کرتے دیکھ سکتے ہیں، جس سے زیادہ حصہ بیتیا ضلع کا ہے. بیتیا سے یہاں مزدوری کرنے آئے ہیرا لال شاہ نے کچھ پیسے اضافہ کر کے ایک مٹھائی کی دکان کھول لی،جس سے وہ اس ذائقہ کی تلافی کر سکیں، جس کا لطف وہ اور ان جیسے سینکڑوں مزدور نہیں لے پا رہے تھے۔ اس دوکان پر صبح شام ان بہاری مزدوروں کا تانتا لگا رہتا ہے۔دیو ناتھ شاہ بتاتے ہیں کہ یہاں آنے کے لئے وہ کئی ماہ پہلے ٹکٹ کٹی لیتے ہیں. اس دہلی سے لیہہ کا ٹکٹ ڈھائی سے تین ہزار روپے میں مل جاتا ہے اور فروری مارچ میں مزدور یہاں آ جاتے ہیں،دو چار دن آرام کرنے کے بعد یہاں کام مل ہی جاتا ہے. چھ ماہ پیسہ کمانے کے بعد اپنے گاﺅں فلائیٹ سے واپس جاتے ہیں۔ دیو ناتھ یہ بتانا نہیں بھولتے کہ دہلی سے اپنے گاﺅں کا سفر وہ ٹرین کے اے سی کلاس میں ہی کرتے ہیں۔چونکہ تمام مزدور ایک دوسرے کے رپفرنس سے لیہہ پہنچتے ہیں سب ایک ہی جگہ کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی دکانیں وہاں کھول لی ہیں۔ چاہے بھوجپوری گانے ہوں یا فلمیں موبائیل میں ڈالنی ہوں، یا سبزی فروخت، سب جگہ بہار سے آئے مزدور ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دکان سال میں چھ ماہ ہی کھولتا ہے، ٹھنڈ کی وجہ سے یہ تمام موسم سرما میں اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں، پر دکان کے مالک کو سال بھر کرایہ دینا ہوتا ہے. لیکن یہ نقصان انہیں منظور ہے، کیونکہ اتر پردیش یا بہار میں جہاں ایک دن کی اوسط دہاڑی تقریبا ساڑھے تین سو روپے ہے وہیں لیہہ میں اتنے ہی کام کے پانچ سو سے چھ سو روپے مل جاتے ہیں۔مقامی ٹھیکیدار پرویز احمد بتاتے ہیں کہ بہاری مزدور بہت مستعد اور موثر ہوتے ہیں. پلاسٹر اور پتائی کے کام میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہیں. لیہہ کے ضلع مجسٹریٹ سوگت بسواس نے بتایا کہ اس وقت لیہہ میں تقریبا دس ہزار بہاری مزدور ہیں اور اپنی محنت سے وہ لیہہ کے باشندوں کی زندگی آسان بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…