جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اسحاق ڈار نے بیرون ملک بیٹھ کر ڈالر کی قیمت کتنی نیچے لانے کی کوششیں شروع کر دیں؟

datetime 7  مئی‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد/لندن (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان آئیں گے، وہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے لندن سے حکومت کو مشورے دے رہے ہیں،ہماری حکومت مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے،ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ پلک جھپکتے ہی سب ٹھیک ہوجائے، مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں،

ہمارا مقصد مہنگائی روکنا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ سوئچ آن کریں اور سب ٹھیک ہوجائے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اتحادیوں سے بات چیت شروع کردی ہے،صوبوں سے بھی بات چیت کی جارہی ہے، جو صوبہ پیٹرول کی سبسڈی میں حصہ نہیں ڈالے گا، وہ صوبہ خود اس کا بوجھ برداشت کرے گا،کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی، معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ ایک انٹرویو میں سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جب حکومت چھوڑی تھی تو پاکستان کی معیشت تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی، پی ٹی آئی کو ایک مستحکم معیشت ملی تھی تاہم پی ٹی آئی نے اپنی نااہلی سے ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا اور غیر مستحکم معیشت چھوڑ کر گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ پلک جھپکتے ہی سب ٹھیک ہوجائے، مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارا مقصد مہنگائی روکنا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ سوئچ آن کریں اور سب ٹھیک ہوجائے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت کی غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردیں، کوشش کریں گے کہ اخراجات کم کریں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اتحادیوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں صوبوں سے بھی بات چیت کی جارہی ہے، جو صوبہ پیٹرول کی سبسڈی میں حصہ نہیں ڈالے گا، وہ صوبہ خود اس کا بوجھ برداشت کرے گا۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت روپے کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، ہم معیشت کو واپس ٹریک پر لے کر آئیں گے اور شرح سود بہتر کریں گے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈالر 160 روپے پر لے کر آئیں۔سینیٹر اسحق ڈار نے کہا

شہباز شریف عوام کو ٹارگٹ سبسڈی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ وزیر اعظم نے آٹے اور چینی پر عوام کو سبسڈی دی۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے کورونا کے دوران غلط اعداد و شمار جاری کیے، حقائق عوام سے چھپائے اور عوام سے جھوٹ بولا۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی، معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…