بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جہاں کیمرے نہیں، وہاں چالان کیسے؟ ڈی آئی جی کا ای چالان پولیس کے گلے پڑ گیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے ساتھ ہی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی۔ شارع فیصل پر نصب کیمروں سے شہریوں کے چالان شروع ہوئے، مگر اس نظام نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی گاڑی کا چالان لیاری ایکسپریس وے پر جاری کر دیا، جہاں کیمرے نصب ہی نہیں۔سندھ پولیس کا نیا ای چالان سسٹم 28 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا، جس کے تحت شارع فیصل پر پانچ مقامات پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کرنے اور فوری چالان جاری کرنے کا نظام نصب کیا گیا۔ٹریفک پولیس کے مطابق صرف چھ گھنٹوں میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے چالان کیے گئے۔تاہم، اس نظام کی ساکھ پر اس وقت سوال اٹھا جب ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے زیرِ انتظام سرکاری گاڑی کا چالان لیاری ایکسپریس وے گارڈن انٹرچینج پر درج ہو ا، حالانکہ ای چالان نظام صرف شارع فیصل کے لیے فعال تھا۔

پولیس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے پی آر او نے جلد بازی میں یہ خبر خود میڈیا کو نشر کرنے کے لیے فراہم کی، جس کے بعد معاملہ منظرِ عام پر آیا۔ بتایا گیا پیرمحمد شاہ گاڑی میں نہیں تھے، ڈرائیور بغیر سیٹ بیلٹ گاڑی چلا رہا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چالان صرف شارع فیصل پر ہونے تھے تو پھر لیاری ایکسپریس وے پر سرکاری گاڑی کا چالان کیسے ہوا؟ٹریفک پولیس نے اب تک کے ای چالان سسٹم کے ٹرمز آف ریفرنس (ToRs) بھی میڈیا کو جاری نہیں کیے، جس سے نظام کی شفافیت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔شہری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ نظام عام شہریوں کے لیے تو سختی سے نافذ کیا گیا ہے کہ کہیں موٹر وے کی طرح پولیس افسران دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چالان سے مستثنیٰ ہوں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ابتدائی دن میں ہی یہ واقعہ چراغ تلے اندھیرا کی مثال بن گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے خود اپنے ہی قانون کے شکنجے میں آ گئے۔واضح رہے کہ کراچی میں متعارف کرائے گئے خودکار ای چالان سسٹم کے تحت ڈی آئی جی ٹریفک کی سرکاری گاڑی کا چالان ہوا تھا۔ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے تصدیق کی کہ ان کی گاڑی کے خلاف 10 ہزار روپے کا چالان ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…