ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعظم نام تو ٹیپو سلطان کا لیتا ہے مگر کام میرجعفر والا کرتا ہے،مدینہ کی ریاست کا نام لے کر ہر قدم اسلام کے خلاف اٹھایا ہے، سراج الحق

datetime 29  جنوری‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک ارب ڈالر کے عوض 22 کروڑ عوام کا معاشی مستقبل تباہ کیا، وزیراعظم نام تو ٹیپو سلطان کا لیتا ہے مگر کام میرجعفر والا کرتا ہے۔مرکزی اسلامی پشاورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جیسے انگریز نے کشمیری عوام فروخت کیا

ویسے ہی حکومت نے اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کیا ، پی ٹی آئی کے حکومت نے ایک ارب ڈالر کے عوض تاریخی غداری کی، ایک ارب ڈالر کے عوض 22 کروڑ عوام کا معاشی مستقبل تباہ کیا، وزیراعظم نام تو ٹیپو سلطان کا لیتا ہے مگر کام میرجعفر والا کرتا ہے۔سراج الحق نے کہاکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی روشنی میں اسٹیٹ بینک کا گورنر مالیاتی وائسرائے بن گیا ہے ،اسٹیٹ بینک تو ہمارا ہے مگر بوقت ضرورت پاکستان کو قرضہ نہیں دے سکے گا، اب محکمہ خزانہ کی بجائے اسٹیٹ بینک خود ہی روپے کی قدر کا تعین کریگا،معاشی ماہرین اس معاہدے کو معاشی سقوط قراردے رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سینٹ میں اپوزیشن حکومت کے ساتھ شامل رہی، اپوزیشن ارکان سیاسی کورونا کا شکار ہوکر اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ موجودہ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ایک ہی در کے غلام ہیں، کل کی طرح آج بھی پاکستان پر مافیا کا راج ہے، آٹا گندم چینی پیٹرول اور ادوایات سمیت تمام بحرانوں کے پیچھے وفاقی وزراء نکلے ہیں۔ پنڈورا پیپرز اور پانامہ پیپرز میں اسی مافیا کے نام ہیں۔ اس حکومت نے مدینہ کی ریاست کا نام لے کر ہر قدم اسلام کے خلاف اٹھایا ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک و قوم کی ترجمانی کی ہے، حکومتی اقدامات کے خلاف ملک بھر میں ایک سو ایک دھرنے دینگے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کو فوری طور پر سبکدوش کیا جائے۔ عوام سے جماعت اسلامی کے اس مہم میں شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔

سراج الحق کاکہنا تھا کہ پی ایس ایل میں شرکت کے لئے آنے والے غیرملکی کرکٹرز کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ حکومت غیرملکی کھلاڑیوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے۔اس حکومت کی پالیسیوں سے ہماری دفاع بھی خطرے میں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رہنا چاہیئے۔صدارتی نظام کی باتیں قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے۔ قوم تین بار صدارتی نظام دیکھ چکی ہے۔ ملکی مسائل کا حل صدارتی نظام نہیں بلکہ اسلامی نظام ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…