ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ماتحت عدلیہ کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر رولز کی خلاف ورزیاں ہوئیں، سپریم کورٹ

datetime 10  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کی  ماتحت عدلیہ میں بھرتیوں کیخلاف دائر درخواست پر سماعت جنوری 2022 ء تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمی  نے مزکورہ بھرتیوں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو سندھ بھر کی ضلعی عدلیہ میں  بھرتیوں کا تمام ریکارڈ مرتب کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

جمعہ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کی  ماتحت عدلیہ میں بھرتیوں کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بھرتیوں کیلیے ٹیسٹ ہوئے نہ انٹرویوز ہوئے،اشتہار کے بغیر بھی بھرتیاں ہوئیں،عمر کی حد اور ڈومیسائل سے متعلق رولز نرم کرنے کی وجوہات بھی  نہیں دی گئیں۔ اس دوران  جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت عدلیہ کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر رولز کی خلاف ورزیاں ہوئیں، بھرتیوں پر پورے سندھ میں شور مچا ہوا تھا،سندھ ہائیکورٹ نے دائرہ اختیار میں کیا ایکشن لیا۔سماعت کے دوران رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت عدلیہ 2000 سے تقرریوں کا یہی طریقہ کار فالو کیا،دوران سماعت سندھ ہائیکورٹ کے وکیل منیر اے ملک نے موقف اپنایا کہ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عالیہ  نے ماضی کے طریقہ کار سے انحراف کیا یا نہیں۔ عدالت عظمی  نے سندھ ہائیکورٹ کی ماتحت عدلیہ میں  بھرتیوں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو سندھ بھر کی ضلعی عدلیہ میں  بھرتیوں کا تمام ریکارڈ مرتب کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ واضح رہے کہ وکیل شمس الاسلام نے سندھ ہائیکورٹ  کی ماتحت عدلیہ میں بھرتیوں کے طریقہ کار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…