ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مذہب کے معاملے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جاسکتی، وزیر اعظم

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مذہب کے معاملے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جاسکتی، انسان کے اندر غیرت بہت ضروری ہے، عزت دار شخص کو کبھی خود کو ذلت میں نہیں ڈالناچاہیے، گزشتہ 20 سالوں میں میری کئی بار کردار کشی کی گئی، میری بے عزتی کیلئے جعلی خبریں لگوائی گئیں، مجھے یقین تھا کوئی بھی شخص میری بے عزتی نہیں کرسکتا

یہ لوگ کچھ بھی کرلیں، غیرت کا جذبہ انسان کی بہت اچھی خصوصیت ہے، میرے نزدیک امیر وہ ہے جو ضمیر کا سودا نہیں کرتا۔امریکی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے دو دہائی تک دنیا بھر میں کھیلوں میں حصہ لیا، میں نے بہت سی کامیابیاں سمیٹیں اور دھچکے بھی لگے، زیادہ تر کھلاڑی اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپاتے تاہم میں نے تعلیمی میدان میں بھی کامیابیاں سمیٹیں، کامیابیاں اور عزت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے، مرجانے کا ڈر بھی انسان کو جدوجہد سے روکتا ہے، آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، جب آپ ناکام ہوتے ہیں تو پھر آپ حالات کا بہتر تجزیہ کرسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مذہب کے معاملے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جاسکتی، مجھے اللہ نے سب سے بڑا تحفہ ایمان کی دولت سے نوازا، سچا ایمان آپ کو اپنی انا پر کنٹرول کرنا سکھاتا ہے، انا کسی بھی شخص کو برباد کردیتی ہے، دوسرے انسانوں کا سوچنے والا اللہ کا ولی بنتا ہے، بدقسمتی سے بہت کم لوگ منڈیلا جیسا بنتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ سیاست میں جب آیا تو مجھے مافیاز کا سامنا ہوا، گزشتہ 20 سالوں میں میری کئی بار کردار کشی کی گئی، میری بے عزتی کیلئے جعلی خبریں لگوائی گئیں، مجھے یقین تھا کہ کوئی بھی شخص میری بے عزتی نہیں کرسکتا یہ لوگ کچھ بھی کرلیں، غیرت کا جذبہ انسان کی بہت اچھی خصوصیت ہے، عزت دار شخص کو کبھی خود کو ذلت میں نہیں ڈالناچاہئے، انسان کے اندر مال و دولت نہیں غیرت بہت ضروری ہے، میرے نزدیک امیر وہ ہے جو ضمیر کا سودا نہیں کرتا۔انہوںنے کہاکہ جب میں نے سیاست شروع کی تو لوگ سیاست میں آنے سے ڈرتے تھے، سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…