جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکو مت آئے ،ہم مذاکرات کے لئے تیا ر ہیں،عمران خان

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں تحریک انصاف کے جلسے کے لیے اسٹیج سج چکا ہے جہاں تھوڑی دیر میں پی ٹی ائی چیئرمین عمران خان عوام سے خطاب کریں گے۔پریڈ ایونیو پر تحریک انصاف کے جلسے کے لیے ملک بھر سے عوام کی بڑی تعداد جلسہ گاہ پہنچ چکی ہے۔جلسے کیلئے انتظامیہ نے کڑے حفاظتی انتظامات کئے ہیں جہاں گیارہ ہزار سیکیورٹی اہلکار ہر مشکوک سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ جلسے کی فضائی نگرانی بھی جاری ہے۔جلسہ گاہ کو بم ڈسپوزل اسکوارڈ سے بھی کلیئر کروایا گیا ہے اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس واٹر کینن بھی ساتھ لائی ہے۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت واپس مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔اسلام آباد میں عوامی طاقت کے مظاہرے سے چند گھنٹے قبل ڈان نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ وہ جن باتوں کو مان چکے تھے حکومت ان پر واپس آئے۔ ‘ہم مذاکرات کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے ماتحت کمیشن کی دھاندلی کی تحقیقات مکمل ہونے تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک وزیراعظم نواز شریف بھی استعفیٰ نہ دیں تاہم اگر دھاندلی ثابت ہو گئی تو نواز شریف کو مستعفی ہونا پڑے گا۔چیئرمین تحریک انصاف نے آج یعنی 30 نومبر کے جلسے میں پلان ‘سی’ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔اپنے اس پلان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پلان دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ہیں تاہم اس کے بعد پلان ‘ڈی’ پیش کریں گے جس سے حکومت کو نقصان ہو گا۔اسلام آباد میں جلسے میں شرکت کے لیے خیبر پختون خوا سے آنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں اور ڈاکٹر خالد سومرو کی ہلاکت کے خلاف شاہرائیں بند کرنے والے جمعیت علماء اسلام ف کے کارکنوں درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ایک اور نجی ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے ڈاکٹر خالد سرمرو کے قتل کی مذمت کی تاہم جے یو آئی کو ان کے جلسے کے روز شاہرائیں بند کرنے پر تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی(ف) کو صرف خیبرپختونخوا میں ہی شاہرائیں بند کرنے کا خیال کیوں آیا۔ ‘قتل سکھر میں ہوا لیکن سڑکیں خیبرپختون خوا میں بند کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تصادم ہوا تو جے یو آئی ف والے زیادہ مار کھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…