پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کی ناقص پالیسیوں سے ڈیڑھ سال میں ہزاروں تعلیمی ادارے بند

datetime 30  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) کورونا وباء کے سبب نجی تعلیمی ادارے ڈیڑھ سال تک بند رہے۔ ہزاروں تعلیمی ادارے اپنی بقاء کی جنگ لڑتے لڑتے ختم ہو گئے۔ حکومت نے اس اہم شعبہ کی بحالی کے لیے کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا۔ حکومت کو سالانہ اربوں روپے ٹیکس دینے والا یہ شعبہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور حکمت سے عاری

فیصلوں کی بھینٹ چڑھگیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت تک ملک کے 50% نجی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی کے عہدیداران کاشف ادیب جاودانی، ابرار احمد خان، عرفان طالب، مسز سکینہ تاج، ابرار احمد ایڈووکیٹ نے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں کورونا سے بھی بڑھ کر تعلیمی بحران پیدا ہوچکا ہے۔ معیشت پر اس کے منفی اثرات عرصہ دراز تک محسوس کیئے جائیں گے۔ سب سے زیادہ نقصان کم فیس کے حامل تعلیمی اداروں کو ہوا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی اور عدم توجیح کے باعث سب سے زیادہ یہ شعبہ متاثر ہوا ہے اور اسی کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے تھی۔ لمحہ فکریہ یہ کہ اس وقت تک آؤٹ آف سکولز بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے غربت و مہنگائی کے باعث بچوں میں چائلڈ لیبر کا رجحان بڑھا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تباہ حال تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے رقم مختص کرے۔تعلیمی اداروں کو ہونے والے غیر معمولی نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے 4 ہزار روپے سے کم فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کو 5 سال تک تمام قسم کے ٹیکسز سے مستنثنی قرار دے۔بجلی کے ٹیرف کو کمرشل کی بجائے ڈومیسٹک کیا جائے۔2018 والی

پوزیشن پر بحال کیا جائے۔تمام نجی تعلیمی اداروں کے بجلی کے نظام کو آسان شرائط پر سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے۔تعلیم کے لیے مختص کردہ بجٹ کو انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق 4% کیا جائے۔ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا فوری نفاذ کیا۔ تعلیمی کو اولین ترجیح دی جائے۔ ملک بھر کیکینٹونمنٹس کی حدود میں واقع نجی تعلیمی اداروں کی منتقلی کے فیصلے کو واپس لیا جائے حکومت کینٹونمنٹس ایکٹ میں اسمبلی کے ذریعے مناسب ترمیم کرکے نجی تعلیمی اداروں کو اپنی خدمات جاری رکھنے کی اجازت دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…