پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

عالمی برانڈ کی پاکستانی قمیض کی کاپی کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے لگا دی گئی

datetime 29  مئی‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)اسپورٹس و فیشن کے شہرہ آفاق اٹالین لگژری برانڈ گچی یاگوچی نے پاکستانی و بھارتی خواتین کی قمیض یا کرتے سے ملتی جلتی شرٹ کو ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی قیمت تک فروخت کے لیے پیش کردیا۔گچی یاگوچی کو دیدہ زیب اور مہنگے لباس و جوتے سمیت دیگر فیشن ایبل چیزیں متعارف کرانے کی وجہ سے پہنچانا جاتا تھاتاہم اس بار برانڈ کی جانب سے

کڑاہی کی ہوئی خواتین کی شرٹ کو ساڑھے تین ہزار امریکی ڈالر کی رقم میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر لوگ حیران رہ گئے۔فیشن برانڈ نے خواتین کی جس ٹی شرٹ کو ساڑھے تین ہزار امریکی ڈالر میں فروخت کیلئے پیش کیا ہے، اس پر یورپی ملک یوکرین سمیت دیگر ممالک میں کی جانے والی کڑاہی کی گئی ہے۔مذکورہ شرٹ جنوبی ایشیائی ممالک اور خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں خواتین کی قمیض یا کرتے سے نہ صرف ملتی جلتی ہے بلکہ لوگ اسے پاکستانی قمیض کی کاپی بھی قرار دے رہے ہیں۔گچی یاگوچی کی جانب سے صرف ایک شرٹ کو ساڑھے تین ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 5 لاکھ 40 ہزار روپے کی قیمت میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر حیران رہ گئے۔فیشن برانڈ کی جانب سے متعارف کرائی گئی شرٹ کو دور جدید کے فیشن کے برعکس بھی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مذکورہ طرز کی شرٹس اب کم ہی پہنی جاتی ہیں تاہم زیادہ تر لوگوں نے فیشن برانڈز کو شرٹ کی قیمت پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ پاکستان میں تو پورے کا پورا جوڑا وہ بھی دوپٹے کے ساتھ ڈھائی سے تین ہزار روپے کا ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…