جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پلوٹو کے برفیلے میدانوں کی نئی تصاویر جاری

datetime 20  جولائی  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )پلوٹو کی پر کثیرالزاویہ اشکال دیکھی جاسکتی ہیںامریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی جہاز نیو ہورائزنز نے پلوٹو کے حیران کن برفیلے میدانوں کی مزید تصاویر جاری کی ہیں۔پلوٹو کی وہ سطح جسے سویت سپٹنک سٹلائٹ کے نام سے منصوب کیا گیا ہے، اس سطح پر کثیرالزاویہ اشکال دیکھی جاسکتی ہیں۔20سے تین کلومیٹر چوڑی ان شکلوں کے کنارے سیاہ اور ٹیلے پر مشتمل ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سطح پر یہ ابھار نیچے کے آنے والی تپش کا ثبوت ہوسکتے ہیں۔تاہم ایسا ٹھنڈک اور مادے کے سکڑنے کے نتجہ ہوسکتا ہے۔سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب اتک انھیں مزید معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی جلدبازی نہیں کر رہے۔نیوہوریزونز کے علم ارضیات، ارضی طبیعات اور تصویر کشی کی ٹیم کے سربراہ جیف مور کا کہنا ہے کہ جب میں نے پہلی بار سپٹنک کے میدان کی تصویر دیکھی تو میں نے فیصلہ کر لیا تھا میں سے آسان سے بیان نہ کرنے والا میدان کہوں گا۔واشنگٹن ڈی سی میں ناسا کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران مشن ٹیم نے میڈیا بریفنگ کے دوران پلوٹو کے ایک چاند نکس کی تصویر بھی دکھائی۔اس چاند کی واضح تصویر نہیں حاصل ہوسکی کیونکہ اس کا قطر صرف ۴۰ کلومیٹر ہے اور اب محقق اس کی شکل واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔سائنسدان ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ ہمیں توقعات رکھنا چاہییں، آج سے تین ماہ پہلے تک، ہمارے پاس پلوٹو کی اتنی اچھی تصاویر بھی نہیں تھی۔نیو ہوریزون نے پلوٹو پر کاربن مونو آکسائیڈ کی موجودگی کا انکشاف بھی کیا ہے مزید حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شاید پلوٹو اپنا کرہ ارض کا ۵۰۰ ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے کھو رہا ہے۔ سورج کی طرف سے آنے والے چارجڈ ذرات اسے اس سے جدا کر رہے ہیں۔پلوٹو کا حجم چھوٹا ہونے کے باعث اس کی کشش ثقل زمین یا مریخ کے انتہائی کم ہے۔مثال کے طور پر مریخ پر یہ شرح صرف ایک ٹن فی گھنٹہ ہے۔یونیورسٹی آف کولراڈو کے معاون محقق فران باگینل کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ نظام شمسی کی تاریخ کے مطابق کھونے والا حصے کا اندازہ لگائیں تو یہ تقریبا ایک ہزار سے نو ہزار فٹ بنتا ہے۔ چنانچہ ایک بڑے پہاڑ کے برابر نائٹروجن برف ہٹ چکی ہے۔یہ مقدار اتنی زیادہ نہیں ہے کہ پلوٹو کے تمام کرہ ارض کو ختم کر دے لیکن اس کے اثرات اس کی سطح پر ہوسکتے ہیں جہاں برف بخارات بن رہی ہے۔واضح رہے کہ نیو ہورائزنز 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11:50 پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا تھا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12,500 کلومیٹر تھا۔
پلوٹو کے قریب سے 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز نے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچیں اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔اس کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو گیا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…