پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

صوبہ خیبرپختونخوا میں دل کا صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کا انکشاف

datetime 26  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر معیاری اسٹنٹ سے متعلق کیس میں سندھ بلوچستان صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن سے رپورٹ طلب کرلی۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت کے پی کے میں صرف ایک سرٹیفائیڈ کارڈیک ڈاکٹر نے انکشاف کیا،عدالت نے سی او

صوبائی ہیلتھ کئیر کمیشن پر اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پورے کے پی صوبے میں صرف ایک سرٹیفائیڈ کارڈیک ڈاکٹر کا ہونا حیران کن ہے، کے پی کے گذشتہ ایک سال میں امراض قلب کے 4615 پروسیجر کیسے ہو گئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سی او ہیلتھ کیئر کو تو گھر چلے جانا چاہیے،سی او کے پی صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن کیا یہاں تفریح کرنے آئے ہیں۔ سی او پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے کہاکہ پنجاب میں امراض قلب کے 40 سرٹیفائیڈ ڈاکٹر ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ 40 سرٹیفائیڈ ڈاکٹر تو صرف لاہور میں ہونے چاہئیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہاکہ امراض قلب کا معاملہ پروفیشنل ڈاکٹرز کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے،کاروباری لوگوں نے امراض قلب کو پیسہ بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر اظہر کیانی نے کہاکہ ڈریپ نے این آئی سی بی کمیٹی کے منظوری شدہ اسٹنٹ کی منظوری نہیں دی،این آئی سی بی کے منظور شدہ اسٹنٹ کی بجائے غیر معیاری اسٹنٹ مریضوں کو ڈالے جا رہے ہیں۔ عالت نے کہاکہ صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز امراض قلب کے ڈاکٹرز کی رجسٹرڈ ہو،غیر رجسٹرڈ اور غیر کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کو سرجری کی اجازت نہ دی جائے،مریضوں کی زندگیوں کو غیر کوالیفائیڈ سے بچایا جائے۔ عدالت نے کہاکہ اس ضمن میں کسی غفلت کے ذمہ داری متعلقہ ہیلتھ کیئر کمیشن ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے اسٹنٹ سے متعلق سندھ بلوچستان صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…