جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر مطالبات گنوادیے‎

datetime 14  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) آئی ایم ایف کی نمایندہ ٹریسا دوبان نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے پرغور ہوسکتا ہے۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کیلیے کورونا ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کورونا کے اخراجات کے لیے ویلتھ ٹیکس لگانا یا لگانا، پارلیمنٹ کا کام ہے۔ پاکستان ٹیکس گزاروں کو بڑھا کر بھی آمدن بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس کی اصلاحات چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس کی چھوٹ محدود کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مستحکم ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں غریب طبقے کی مدد کرنا ضروری ہے۔ توانائی کے نقصانات کم کرنا پاکستان کے لیے ضروری ہیں۔ کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف چل پڑی تھی۔انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے اہداف پر عمل درآمد بھی ہو رہا تھا۔ پاکستان میں قرضے اور حکومتی گارنٹیز معیشت کے 92.8 فی صد تک پہنچ گئیں ہیں۔ غیریقینی عالمی حالات پاکستان کے لیے چیلنج ہیں۔ ا پاکستان کو پانچ بنیادوں پر مشتمل پیکج دیا گیا ہے، نمایندہ آئی ایم ایف نے کہا پہلی بنیاد معاشی نظم و ضبط ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی ۔ پاکستان کو ٹیکس کی چوری روکنا ہوگی۔ مانیٹری پالیسی میں ایکس چینج ریٹ میں استحکام دوسری بنیاد ہے۔ ا منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ٹریسا دوبان نے کہا پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کی اصلاحات پاکستان کے لیے چوتھی بنیاد ہیں، پاکستان کو سرکلر ڈیٹ منجمنٹ کرنا ہوگی۔ پاکستان کو بجلی کے ریٹ بڑھانا ہوں گے، ٹریسا دوبان نے کہا پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات پانچویں بنیاد ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر کوئی ڈکٹیشن نہیں دی۔ انہوں نے کہا کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کو مزید فنڈنگ کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…