جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تسخیری مشن کامیاب، پلوٹو کے سائز کا مسئلہ حل

datetime 15  جولائی  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)ناسا کے ‘نیو ہورائزن اسپیس پروب’ مشن نے منگل کو نظام شمسی کے پار کائنات کی دور دراز وسعتوں میں واقع، پلوٹو کے سیارے کو کامیابی سے تسخیر کرلیا۔ مشن نو برس بعد آج ہی کے روز پلوٹو سے 12500 کلومیٹر کے قریبی فاصلے سے گزرا۔تحقیقی سائنس دانوں کے مطابق، پلوٹو کی جسامت 1473 میل(یعنی 2370 کلومیٹر)ہے، جو کہ اس سے کچھ زیادہ ہے، جس کا اب تک اندازہ لگایا جاتا رہا ہے۔ پلوٹو کے قطر کے بارے میں بحث 1930 سے جاری رہی ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی گاڑی کی رفتار 50000 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ پلوٹو کی برفانی دنیا سے گزرتے ہوئے، مشن نے اپنے کیمرے کے زوم لینس سے تصاویر لیں اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام انجام دیا۔بھیجی گئی پہلی تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ پلوٹو پر ناہموار زمین، پہاڑی سلسلہ اور برف موجود ہے۔جب پہلی تصویر زمین پر ناسا کو موصول ہوئی تو سائنس دانوں کے علاوہ نیچے جمع شائقین کے ایک مجمعے نے، جن کے ہاتھوں میں چھوٹے امریکی پرچم تھے، تالیاں بجا کر اور نعرے بلند کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ تصاویر نصف دِن سے زیادہ کی تاخیر کے بعد ناسا کو موصول ہوئیں، جب کہ امریکی خلائی ادارے، ناسا میں گرانڈ کنٹرولرز پروب سے سگنل ملنے کاانتظار کر رہے تھے۔اس سے قبل، سرکردہ سائنس داں، ایلن اسٹرن نے بتایا تھا کہ ایک میں سے 10000واں امکان ہے کہ نیوہورائزن پلوٹو کے گرد متحرک ملبے سے ٹکرا جائے، جو کﺅپر بیلٹ کی کہکشاں کے علاقے میں واقع ہے۔یہ نظام شمسی کا وہ ان دیکھا خطہ ہے، جو دمدار تاروں اور دیگر چھوٹی جسامت والی بکھری چیزوں پر مشتمل کائنات ہے۔۔ جسے شوٹنگ گیلری کہا جاتا ہے۔یہ قدرت کی بلندیوں تک پہنچنے والی پہلی انسانی کاوش ہے۔ یہ مشن نو برس بعد پلوٹو کے قریب پہنچا ہے، جس نے نظام شمسی سے ہوتے ہوئے، زمین سے پانچ ارب کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ سنہ 2006 میں اس سیارے کو ایک بونا سیارہ قرار دیا گیا، جب کہ اس سے پہلے اِسے ایک مکمل سیارہ قرار دیا جاتا تھا۔سائنس داں کہتے ہیں کہ نیو ہورائزن پروب کے تسخیری مشن پر 70 کروڑ ڈالر خرچ آئے۔ ایسے میں جب یہ اپنی منزل مقصود کے قریب جا پہنچا ہے، اِس سے اب تک موصول ہونے والی معلومات اتنی قیمتی ہے جتنی کبھی سوچی نہیں جا سکتی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…