جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز کی لندن روانگی کے لیے جنرل مشرف دور کے ”جدہ ماڈل“کو دوبارہ آزمانے کا فیصلہ،اس بار رفیق الحریری کی جگہ کس مہرے کو استعمال کیا جائے گا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 7  اپریل‬‮  2021 |

کوئٹہ/اسلام آباد/کراچی(آن لائن) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سابق ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ غالباً پی ڈی ایم کی ناگفتہ صورتحال نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کو ”قرنطینہ“ پر مجبور کردیا ہے حالانکہ نہ صرف مولانا فضل الرحمن بلکہ محترمہ مریم نواز کا کرونا ٹیسٹ منفی آچکا ہے اس لیے

رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن اور محترمہ مریم نواز نے ”چپ کا روزہ“ ایسے ہی نہیں رکھا ہے۔ وہ بدھ کے روز مختلف ٹی وی چینلز اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے مقدمات سے بچنے اور بیماری کا بہانہ بنا کر لندن فرار ہونے کے لیے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے جے یو آئی کے مخلص جانثاروں کو آزادی مارچ میں استعمال کیا اور ڈاکٹرعدنان کے ذریعے فریب کاری کرکے لندن سدھار گئے اور پھر مریم نواز کو بلاکر برطانیہ میں پورے خاندان کی تکمیل کی کوشش کے لیے وہی انداز اپنانے کی کوشش کی گئی مگر ”دال نہیں گلی“ تو اب جنرل مشرف دور کے ”جدہ ماڈل“ کو دوبارہ آزما نے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب رفیق الحریری کی جگہ ایک مضبوط کاروباری مہرہ استعمال کیا جائے گا اس لیے پی ڈی ایم کے شیرازہ کو بکھرنے کا فیصلہ بھی مستقبل کے ”لندن پلان“ کا ہی ایک طے شدہ حصہ ہے لیکن اس پورے ڈرامہ میں سب سے زیادہ نقصان جے یو آئی (ف)کو ہوا ہے اور یہی وہ خدشات تھے جس کی نشاندہی ہم نے اپنی پارٹی کے اداروں اور قیادت کے سامنے کی تھی، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمن کو کہہ دیا تھا کہ کرپشن کے سانڈوں کی لڑائی میں نہ کودیں تو ان کے لیے بہترہوگاکیوں کہ ہم ”شریف خاندان“ کی چالاکیوں اور تمام صورتحال کو بھانپ چکے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…