جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

کونسی پی ڈی ایم؟ کیسی پی ڈی ایم؟‘ میں تو پہلے ہی ان کی موت کی پیشگوئی کرچکا تھا، وفاقی وزیر داخلہ نے ن لیگ کے مستقبل سے متعلق بڑی پیش گوئی کر دی

datetime 6  اپریل‬‮  2021 |

راولپنڈی(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کونسی پی ڈی ایم؟ کیسی پی ڈی ایم؟‘ میں تو پہلے ہی ان کی موت کی پیشگوئی کرچکا تھا،عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ن لیگ کے بجائے پیپلزپارٹی کے قریب ہوگئی اور بھی بہت کچھ ہوگا ،پی ڈی ایم میں گروپ بندی کے اثرات دوسری پارٹیوں پر بھی پڑیں گے، عید کے بعد ن لیگ کے اندر مسئلے کھڑے ہوں گے۔

ایک انٹرویومیں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ابھی اے این پی پی ڈی ایم سے الگ ہوئی ہے اور بھی بہت کچھ ہوگا، اے این پی مستقبل کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں گروپ بندی کے اثرات دیگر پارٹیوں پر بھی پڑیں گے، عید کے بعد ن لیگ کے اندر مسئلے کھڑے ہوں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ نہ کوئی آرہا ہے نہ کوئی جارہا ہے اسی تنخواہ پر سارے کام کررہے ہیں، میرے ساتھ کوئی رابطے میں نہیں جن کے ساتھ ہیں انہیں پتا ہوگا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مریم نواز خود کہہ رہی ہیں کہ مجھے باہر نہیں جانا تو بات ختم ہوگئی، پی ڈی ایم سرنڈر کرچکی ہے اب اس میں کوئی جان نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ میر ی دعا ہے اللہ تعالیٰ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کو صحت یاب کرے ۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے استفسار کیا ہے کہ کونسی پی ڈی ایم؟ کیسی پی ڈی ایم؟‘ میں تو پہلے ہی ان کی موت کی پیشگوئی کرچکا تھا۔انہوںنے کہاکہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا پی ڈی ایم اپنی موت آپ مرے گی، اب دو گروپ بنیں گے، مسلم لیگ(ن) کا اپنا گروپ ہو گا اور پیپلز پارٹی اپنا گروپ بنائے گی۔انہوںنے کہاکہ اصلہ مسئلہ یہ ہے کہ اب انہیں کرنا کیا ہے، استعفے انہوں دینے نہیں ہیں، پیپلزپارٹی کو تو چھوڑیں مسلم لیگ(ن) بھی استعفے نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ یہ الیکشن میں حصہ لیں گے، انہوں نے لیا، انہوں نے کہا تھا کہ ہم سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے تو انہوں نے اس میں بھی حصہ لیا، انہوں نے کہا تھا کہ بائیکاٹ نہیں کریں گے تو نہیں کیا، انہوں نے کہا تھا کہ استعفیٰ نہیں دیں گے تو وہ بھی نہیں دئیے، اب آخر ان کے پاس رہ ہی کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن کی صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ طے ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست الگ ہو چکی ہے اور یہ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے 10 رکنی سیاسی کمیٹی بنائی ہوئی ہے اور اس میں آج علی ظفر کو بھی الیکشن اصلاحات کا کہا ہو گا لیکن کیا اپوزیشن ایسی بات سننے کے لیے تیار ہے، یہ اپوزیشن کو ہی پتہ ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ڈھائی سال کے بعد عمران خان نے مختلف طرز عمل کی سیاست شروع کی ہے کہ ہم اپوزیشن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اپوزیشن کس حد تک تیار ہوتی ہے، یہ آنے والے دنوں میں رمضان کے بعد پتہ چل جائے گا کہ وہ کیا سیاست کرتے ہیں اور کیا نتیجہ نکلتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…