جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مہنگائی کے سونامی نے عوام کو گھریلو سامان کی نیلامی پر مجبور کر دیا ،سٹیٹ بینک کا آرڈیننس آئی ایم ایف کو مالی وائسرائے تسلیم کرنا ہے، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 2  اپریل‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مہنگائی کے سونامی نے عوام کو گھریلو سامان کی نیلامی پر مجبور کر دیا ہے ۔ سٹیٹ بینک کا آرڈیننس آئی ایم ایف کو مالی وائسرائے تسلیم کرنا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی گو آئی ایم ایف تحریک چلائے گی۔ لاہور کے ہسپتالوں میں ویکسین مافیا چوری کی

وارداتوں میں ملوث ہے ۔ رمضان سے پہلے حکومت عوام کو سہولت دینے کی بجائے مافیاز کی سہولت کار بن چکی ہے ۔ دنیا میں تمام مصیبتوں،وباؤں کا حل اللہ تعالی کی طرف رجوع اور استغفار میں ہے۔کرونا وباء کی تیسری لہر کے باوجود حکمرانوں کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔اعلان کردہ 12000روپے اصل ایشوز کے حل کے لیے خرچ کیے ہوتے، تو متاثرہ عوام کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔ حکمران اللہ کے نظام سے بغاوت کی بجائے اس کو نافذ کرنے کا اعلان کریں۔ پوری انسانیت کی بقاء نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں میں ہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ جامع مسجد میں اپنے خطبے اور وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے سٹیٹ بنک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیا ہے۔ اب عملی طور پر سٹیٹ بنک کا گورنر یہاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی طرف سے مالی وائسرائے ہوگا۔ تمام مالی ادارے اس وائسرائے کے تابع ہوں گے۔ سٹیٹ بنک کا گورنر ہماری پارلیمنٹ و عدالت کو جوابدہ نہیں ہوگا۔ اس پر ہمارے ملک کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا اور آڈیٹر جنرل پاکستان بھی اس کا آڈٹ نہیں کرسکے گا۔ ہمارے ریاستی نظام کے قوانین سے بھی گورنر سٹیٹ بنک کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایسے قانون کو ہم ہر گز برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف قومی سطح پر تحریک

برپاکریں گے۔ انھوںنے کہا کہ کورونا سے صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ میری معلومات کے مطابق اسلام آباد، لاہور، پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں جگہ نہیں، وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کی غفلت کی وجہ سے عوام سخت پریشان ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت 1100 دنوں میں صحت کی سہولیات

میں ایک فیصد بہتری نہیں لا سکی بلکہ اب تو پہلے سے بھی برا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہنگائی کے سونامی نے عوام کو گھریلو سامان کی نیلامی پر مجبور کر دیا ہے،بے روز گاری اور خوف کے اس ماحول میں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ موجودہ اور سابقہ حکمران ہیلتھ سیکٹر کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ حکومتیں

اپنے حصے کا کام کرتیں تو ہم طبی آلات کے لئے دیگر ممالک کی طرف نہ دیکھ رہے ہوتے ۔ حکومتیں جب بھی فنڈز قائم کرتی ہیں، ان کی تقسیم کاکوئی پتہ نہیں چلتا۔کورونا وائرس کی وجہ سے پوری انسانیت مشکل میں ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ ڈاکٹرز اور میڈیا کے لوگ فرنٹ لائنرز ہمارے ہیروز اور ٹائیگرز ہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا

کہ تمام شہداء کے لیے ایوارڈ کا اعلان کرتی، کیونکہ زندہ قومیں اپنے اصل ہیروز نہیں بھولتیں۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مسئلے پر فنڈز نہ ہونے سے ثابت ہوا ہے کہ حکومت کے پاس ہیلتھ ایمرجنسی کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے صحت کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے جائیں۔ ڈاکٹرز کے پاس ابھی تک سیفٹی کٹس نہیں ہیں اس کے باوجود وہ دن رات خدمت کر رہے ہیں ۔

اگر ڈاکٹر خودمحفوظ نہیں ہوںگے تو مریضوں کی کیا خدمت کریں گے؟ حکومت انا اورغرور سے باہر نکلے اور اپنے رویے میں تبدیلی لائے۔ علاج اور تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت تکبر سے باہر نکلے اور توبہ استغفار کرے۔ حکومت اسلامی نظام کا نفاذکرے اور ملک سے سود کو اکھاڑ کر پھینک دے۔سراج الحق نے اس بات پر زور دیا کہ احتیاط وعلاج کے ساتھ اس وقت توبہ استغفار اور رجوع الی اللہ کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس وبا سے انسانیت کو نجات عطا فرمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…