جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

ملکہ وکٹوریہ کی 121 سال قبل فوجی کو بھیجی گئی چاکلیٹ مل گئی

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)ایک سو اکیس سال قبل ملکہ برطانیہ کی جانب سے جنوبی افریقہ میں لڑنے والے فوجی کو بھیجی جانے والی چاکلیٹ بار اسی حالت میں ملی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ چوکلیٹ بوئر جنگ لڑنے والے ایک فوجی سر ہنری ایڈورڈ پاسٹن کو بھجوائی گئی جو ان کے ہیلمٹ سے ملی ہے۔یہ چاکلیٹ مشرقی

انگلینڈ کے علاقے نورفوک میں 500 سال پرانے آکسبرگ ہال میں ان کے آبائی گھر میں موجود تھی۔تاریخی ورثے کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے کلچرل ہیریٹج کیوریٹر نیشل ٹرسٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ‘اگرچہ آپ اسے اپنے ایسٹر کے تحفے کے طور نہیں لیں گے تاہم یہ ابھی تک مکمل اور درست حالت میں ہے۔چاکلیٹ کے دھاتی ڈبے کے ساتھ ملکہ وکٹوریہ کا ہاتھ سے لکھا یہ پیغام بھی موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘میں آپ کے نئے سال کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں۔’ڈبے پر ‘ساؤتھ افریقہ 1900’ بھی لکھا گیا ہے جبکہ ساتھ میں ملکہ کی تصویر بھی ہے۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ‘خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ہنری نے ہیلمٹ اور چاکلیٹ کو جنگ کی یادگار کے طور پر رکھ لیا تھا۔ یہ چیزیں ان کی بیٹی فرانسس گریٹ ہیڈ کے سامان سے ملی ہیں جو 2020 میں 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔سنہ 1899 سے 1902 تک جاری رہنے والی بوئر جنگ میں برطانوی فوجوں نے جنوبی افریقہ کی دو آزاد ریاستوں

کے خلاف لڑائی لڑی تھی جن کو بوئرز چلا رہے تھے اور وہاں سے بڑی مقدار میں ہیرے اور سونا ملا تھا۔ملکہ وکٹوریہ نے آدھ پونڈ کی ایک لاکھ چاکلیٹ بارز فوجیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے بھجوائی تھیں۔اس وقت برطانیہ میں چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں میں کیڈبری، فرائی اینڈ رینٹری

شامل تھیں جن کی یونین بنی ہوئی تھی اور وہ جنگ کے خلاف تھیں، اس لیے انہوں نے بغیر کسی برینڈنگ کے ٹِن پیکس تیار کیے تھے۔تاہم ملکہ نے اصرار کیا کہ فوجیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کو یہ تحائف گھر سے بھیجے گئے ہیں اس لیے کچھ چاکلیٹس پر برینڈنگ کر دی تھی تاہم

دھاتی دبوں پر ایسے ہی رہنے دیا تھا۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ دھاتی ڈبے ملے تھے تاہم معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کا اصل مالک کون تھا کیونکہ زیادہ تر فوجیوں نے چاکلیٹس کھا لی تھیں، تاہم یہ ایک واحد واقعہ ہے جس میں اس فوجی کا حقیقی معنوں میں پتا چلا ہے جنہیں وہ بھجوائی گئی تھی۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…