اتوار‬‮ ، 19 اپریل‬‮ 2026 

ملکہ وکٹوریہ کی 121 سال قبل فوجی کو بھیجی گئی چاکلیٹ مل گئی

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)ایک سو اکیس سال قبل ملکہ برطانیہ کی جانب سے جنوبی افریقہ میں لڑنے والے فوجی کو بھیجی جانے والی چاکلیٹ بار اسی حالت میں ملی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ چوکلیٹ بوئر جنگ لڑنے والے ایک فوجی سر ہنری ایڈورڈ پاسٹن کو بھجوائی گئی جو ان کے ہیلمٹ سے ملی ہے۔یہ چاکلیٹ مشرقی

انگلینڈ کے علاقے نورفوک میں 500 سال پرانے آکسبرگ ہال میں ان کے آبائی گھر میں موجود تھی۔تاریخی ورثے کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے کلچرل ہیریٹج کیوریٹر نیشل ٹرسٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ‘اگرچہ آپ اسے اپنے ایسٹر کے تحفے کے طور نہیں لیں گے تاہم یہ ابھی تک مکمل اور درست حالت میں ہے۔چاکلیٹ کے دھاتی ڈبے کے ساتھ ملکہ وکٹوریہ کا ہاتھ سے لکھا یہ پیغام بھی موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘میں آپ کے نئے سال کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں۔’ڈبے پر ‘ساؤتھ افریقہ 1900’ بھی لکھا گیا ہے جبکہ ساتھ میں ملکہ کی تصویر بھی ہے۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ‘خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ہنری نے ہیلمٹ اور چاکلیٹ کو جنگ کی یادگار کے طور پر رکھ لیا تھا۔ یہ چیزیں ان کی بیٹی فرانسس گریٹ ہیڈ کے سامان سے ملی ہیں جو 2020 میں 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔سنہ 1899 سے 1902 تک جاری رہنے والی بوئر جنگ میں برطانوی فوجوں نے جنوبی افریقہ کی دو آزاد ریاستوں

کے خلاف لڑائی لڑی تھی جن کو بوئرز چلا رہے تھے اور وہاں سے بڑی مقدار میں ہیرے اور سونا ملا تھا۔ملکہ وکٹوریہ نے آدھ پونڈ کی ایک لاکھ چاکلیٹ بارز فوجیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے بھجوائی تھیں۔اس وقت برطانیہ میں چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں میں کیڈبری، فرائی اینڈ رینٹری

شامل تھیں جن کی یونین بنی ہوئی تھی اور وہ جنگ کے خلاف تھیں، اس لیے انہوں نے بغیر کسی برینڈنگ کے ٹِن پیکس تیار کیے تھے۔تاہم ملکہ نے اصرار کیا کہ فوجیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کو یہ تحائف گھر سے بھیجے گئے ہیں اس لیے کچھ چاکلیٹس پر برینڈنگ کر دی تھی تاہم

دھاتی دبوں پر ایسے ہی رہنے دیا تھا۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ دھاتی ڈبے ملے تھے تاہم معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کا اصل مالک کون تھا کیونکہ زیادہ تر فوجیوں نے چاکلیٹس کھا لی تھیں، تاہم یہ ایک واحد واقعہ ہے جس میں اس فوجی کا حقیقی معنوں میں پتا چلا ہے جنہیں وہ بھجوائی گئی تھی۔



کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…