بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اونٹ سانپ کھا کر پیاس لگنے کے باوجود فوراً پانی کیوں نہیں پیتا اور اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو کس کام میں استعمال ہوتے ہیں ؟ معلوماتی تحریر

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سانپ کا گوشت اونٹ کی پسندیدہ غذا ہے اور اسے سانپ کا گوشت بے حد اشتیاق دیتا ہے تو وہ اسے کھانا شروع کر دیتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ کھانے کی ابتداء اس کی دم سے کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ اسے پورا کھا جاتا ہے ، سانپ کا گوشت سخت گرم ہوتا ہے جب اونٹ اسے کھا لیتا ہے تو اسے سخت پیاس محسوس ہوتی ہے اوروہ پیاس بھجانے

کے لیے پانی کے کسی تالاب پر جاتا ہے اللہ نے تکوینی شکل میں اسے الھام کر رکھا ہے کہ اگر اس نے اس وقت پانی پیا تو سانپ کا زہر اسکے پورے بدن میں پھیل جائے گا ، لہذا وہ شدید پیاسا ہونے کے باوجود تالاب پر پہنچ کر بھی کچھ دیر کے لیے پانی نہیں پیتا ، پھر وہ زور زور سے بلبلانے لگ پڑتا ہے ، ایسے لگتا ہے جیسے وہ کیسی سخت مشکل میں مبتلا ہے اور کسی کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے ، اس وقت اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ پڑتے ہیں ، اللہ نے اس کے پیوٹوں کے نیچے دو چھوٹے چھوٹے گڑھے بنائے ہوئے ہیں ، اس کے آنسو آنکھوں سے نکل کر ان گڑھوں میں جمع ہوتے ہیں اور یوں سانپ کا سارا زہر آنسو بن کر آنکھوں سے باہر آ جاتا ہے عقل مند ساربان اس گڑھے میں جمع شدہ پانی کو کسی صاف شیشی میں بھر لیتے ہیں ، وہ زہریلا پانی سانپ اور بچھو کے کٹے کا تریاق دیتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…