بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

صدر خود مستعفی ہو جائیں نہیں تو یہ کام کریں گے،مولانا فضل الرحمان کا صدر پاکستان سے مطالبہ

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا۔جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان نے آئینی ذمہ داریوں کی بجائے وزیر اعظم کے کہنے پر ریفرنس بھیجا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر

مملکت کو خود مستعفی ہو جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے ریفرنسز بھیج کر سپریم کورٹ کو ماورائے آئین دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، صدر کا آرڈینس اور ریفرنس دونوں آئین کے خلاف ہیں، اوپن بیلٹ آرڈینس نے عدلیہ اور قوم کا وقت ضائع کیا۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر کو خود مستعفی ہو جاناچاہیے، صدر خود مستعفی ہو جائیں، نہیں تو مواخذے کی تحریک بھی آ سکتی ہے، حکمران اتنے بے بس ہیں کہ اپنی مرضی سے استعفے کا اختیار بھی نہیں رکھتے، محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کے سینے میں دل ہی نہیں۔ جے یو پی کے سربراہ نے بیان میں کہا اوپن بلیٹ ریفرنس سے عدلیہ اور سیاست دانوں کو لڑانے کی کوشش کی گئی، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد معاملہ اب الیکشن کمیشن میں ہے، امید ہے الیکشن کمیشن حقیقی معنوں میں خود کو با اختیار ثابت کرے گا، سپریم کورٹ کے فیصلے نے الیکشن کمیشن کی پوزیشن کو بہتر کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا یہ فیصلہ خوش آئند ہے جس میں الیکشن کمیشن کی خود مختاری پر زور دیاگیا ہے، سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کو الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کا کہا ہے۔انھوں نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ ڈسکہ الیکشن معاملے پر از خود نوٹس لیا جائے، اور سپریم کورٹ آئندہ انتخابات کی شفافیت کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…