منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

صدر خود مستعفی ہو جائیں نہیں تو یہ کام کریں گے،مولانا فضل الرحمان کا صدر پاکستان سے مطالبہ

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا۔جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان نے آئینی ذمہ داریوں کی بجائے وزیر اعظم کے کہنے پر ریفرنس بھیجا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر

مملکت کو خود مستعفی ہو جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے ریفرنسز بھیج کر سپریم کورٹ کو ماورائے آئین دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، صدر کا آرڈینس اور ریفرنس دونوں آئین کے خلاف ہیں، اوپن بیلٹ آرڈینس نے عدلیہ اور قوم کا وقت ضائع کیا۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر کو خود مستعفی ہو جاناچاہیے، صدر خود مستعفی ہو جائیں، نہیں تو مواخذے کی تحریک بھی آ سکتی ہے، حکمران اتنے بے بس ہیں کہ اپنی مرضی سے استعفے کا اختیار بھی نہیں رکھتے، محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کے سینے میں دل ہی نہیں۔ جے یو پی کے سربراہ نے بیان میں کہا اوپن بلیٹ ریفرنس سے عدلیہ اور سیاست دانوں کو لڑانے کی کوشش کی گئی، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد معاملہ اب الیکشن کمیشن میں ہے، امید ہے الیکشن کمیشن حقیقی معنوں میں خود کو با اختیار ثابت کرے گا، سپریم کورٹ کے فیصلے نے الیکشن کمیشن کی پوزیشن کو بہتر کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا یہ فیصلہ خوش آئند ہے جس میں الیکشن کمیشن کی خود مختاری پر زور دیاگیا ہے، سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کو الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کا کہا ہے۔انھوں نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ ڈسکہ الیکشن معاملے پر از خود نوٹس لیا جائے، اور سپریم کورٹ آئندہ انتخابات کی شفافیت کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…