اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کو واپس لانے کے اقدامات کا الٹا اثر سابق وزیر اعظم مزید کتنے سال لندن رہ سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی حکومت ہاتھ ملتی رہ گئی

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی) وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کی کل 16فروری آخری تاریخ ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت نے 16فروری کے بعد لندن میں مقیم نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نواز شریف علاج کی غرض

سے لندن میں موجودہیں ۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما و معروف قانون دان ذوالفقار علی بدر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق صحت کے مسائل یا علاج کیلئے آنے والے کسی بھی شخص کوپاسپورٹ یا ویزے کی میعادپوری ہونے پر 18ماہ تک رہنے کی اجازت ہوتی ہے ، اگر حکومت نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرتی تو وہ بھی مزید 18ماہ رہ سکتے ہیں ، اگر حکومت انہیں پاکستان لانا چاہتی تو کبھی بھی ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی بات نہ کرتی ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پاسپورٹ کی معیاد پوری ہو گی اور اگر حکومت اس کی تجدید نہیں کرتی تو وہ خود بخود ہی منسوخ ہو جائے گا اس کے لئے حکومت کے کسی اقدام کی ضرورت نہیں ۔ کسی بھی پاکستانی شہری جس کے پاس شناختی کارڈ ہے پاسپورٹ حاصل کرنا اس کا بنیادی حق اور کوئی اسے اس سے روک نہیں سکتا ۔انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کو پاکستان لانا ہے تو اس کے لئے حکومت کو ان کے پاسپورٹ کی تجدید کرنا پڑے گی اور

میرے ذاتی خیال کے مطابق اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو حکومت توانہیں خود سہولت دے رہی ہے اور ان کے پاس یہ وجہ ہو گی کہ وہ لندن میں مزید قیام کریں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا جو قانون ہے کہ اگر کوئی بھی شخص صحت کے مسائل اور علاج کے لئے آیا ہوتو اس کو

پاسپورٹ یا ویز ے کی معیاد پوری ہونے کے بعد 18ماہ کا وقت دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزموں یا مجرموں کے تبادلے کا باضابطہ کوئی معاہدہ موجود نہیں ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لاناآسان کام نہیں کیونکہ حکومت نے انہیں خود باہر بھجوایا ہے اور اب ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کر کے یہ موقع دیں گے کہ وہ سفر نہ کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…