جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کو واپس لانے کے اقدامات کا الٹا اثر سابق وزیر اعظم مزید کتنے سال لندن رہ سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی حکومت ہاتھ ملتی رہ گئی

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی) وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کی کل 16فروری آخری تاریخ ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت نے 16فروری کے بعد لندن میں مقیم نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نواز شریف علاج کی غرض

سے لندن میں موجودہیں ۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما و معروف قانون دان ذوالفقار علی بدر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق صحت کے مسائل یا علاج کیلئے آنے والے کسی بھی شخص کوپاسپورٹ یا ویزے کی میعادپوری ہونے پر 18ماہ تک رہنے کی اجازت ہوتی ہے ، اگر حکومت نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرتی تو وہ بھی مزید 18ماہ رہ سکتے ہیں ، اگر حکومت انہیں پاکستان لانا چاہتی تو کبھی بھی ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی بات نہ کرتی ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پاسپورٹ کی معیاد پوری ہو گی اور اگر حکومت اس کی تجدید نہیں کرتی تو وہ خود بخود ہی منسوخ ہو جائے گا اس کے لئے حکومت کے کسی اقدام کی ضرورت نہیں ۔ کسی بھی پاکستانی شہری جس کے پاس شناختی کارڈ ہے پاسپورٹ حاصل کرنا اس کا بنیادی حق اور کوئی اسے اس سے روک نہیں سکتا ۔انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کو پاکستان لانا ہے تو اس کے لئے حکومت کو ان کے پاسپورٹ کی تجدید کرنا پڑے گی اور

میرے ذاتی خیال کے مطابق اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو حکومت توانہیں خود سہولت دے رہی ہے اور ان کے پاس یہ وجہ ہو گی کہ وہ لندن میں مزید قیام کریں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا جو قانون ہے کہ اگر کوئی بھی شخص صحت کے مسائل اور علاج کے لئے آیا ہوتو اس کو

پاسپورٹ یا ویز ے کی معیاد پوری ہونے کے بعد 18ماہ کا وقت دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزموں یا مجرموں کے تبادلے کا باضابطہ کوئی معاہدہ موجود نہیں ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لاناآسان کام نہیں کیونکہ حکومت نے انہیں خود باہر بھجوایا ہے اور اب ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کر کے یہ موقع دیں گے کہ وہ سفر نہ کریں ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…