اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان سنگین اختلافات قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھا گیا تہلکہ خیز خط منظر عام پر آگیا

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں ہفتے سپریم کورٹ نے اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے جواب کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا تھا جس پر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے کی فائل موصول نہ ہونے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو

خط لکھ دیا،خط میں انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیئے ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی اسدعلی طور کی جانب سے ٹویٹر پر خط کی کاپی شیئر کی گئی ، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار کو خط میں کیس نمبر C.M.A.490/2021کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ 11 فروری کو کیس کا فیصلہ سنایا گیاہے اور اسے میڈیا میں جاری کر دیا گیا ، یہ نہایت حیران کن ہے کیونکہ مجھے فیصلے کی فائل موصول نہیں ہوئی ،یہ طے شدہ معمول ہے کہ بینچ کی سربراہی کرنے والے جج (اس کیس میں سربراہی چیف جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے )فیصلہ جاری کرتے ہیں تو یہ پڑھنے کیلئے سینیارٹی میں دوسرے نمبرپر جسٹس کو بھیجا جاتاہے اور اسی طرح کیس کے فیصلے کی فائل آگے ججز کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی رائے دے سکیں ، معزز جسٹس اعجاز الحسن کو فیصلے کی فائل موصول ہوئی لیکن یہ فائل مجھ تک نہیں پہنچی اور میرے دیکھنے سے پہلے ہی

پوری دنیا کو اس کا پتا چل چکا ہے ۔خط میں جسٹس فائز عیسیٰ کا کہناتھا کہ براہ مہربانی میری رہنمائی کی جائے کہ فیصلے کی فائل مجھے کیو ں نہ بھیجی گئی اور دوسرے سینئر جج کو کیس فائل بھیجنے کے طے شدہ معمول کو کیوں نہ اپنایا گیا ، میرے پڑھنے سے قبل یہ کس طرح میڈیا کو جاری کر دی گئی ،میڈیا میں جاری کرنے کے احکامات کس نے جاری کیے اور مجھے کیس کی فائل فراہم کی جائے تاکہ میں حتمی طور پر کیس کا فیصلہ پڑھ سکوں اور اپنی رائے دے سکوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…