اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

لیڈی ہیلتھ ورکرز کو انسان نہیں سمجھا جاتا، سپریم کورٹ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام ا باد۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو24 گھنٹے میں مستقل کرنے اورتنخواہوں کی ادائیگی کے بارے میں حکومت پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے بیانات حلفی مسترد کردیے ہیں اور ان سمیت سندھ وبلوچستان کو ا خری مہلت دیتے ہوئے دوبارہ بیانات حلفی جمع کرانے کے احکام جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگربیانات حلفی جمع نہ کرائے گئے تومتعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو انسان نہیں سمجھا جاتا، انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایک ماہ سے زیادہ کاعرصہ گذرگیا، عدالتی حکم پرعمل نہیں کیا گیا، کیوں نہ تمام متعلقہ افسروں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جائیں؟ جمعرات کو جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرزکی تنخواہوں اورمستقلی کے حوالے سے بشریٰ ا رائیں نامی درخواست گزارکی درخواست کی سماعت کی۔جسٹس جواد نے کہا کہ کے پی، سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہر روز گولیوں کانشانہ بنایاجا رہا ہے۔ ایک روزقبل بھی کوئٹہ میں4 لیڈی ہیلتھ ورکرزکو قتل کردیا گیا۔ اب طفل تسلیاں نہیں چلیں گی، لیڈی ہیلتھ ورکرز کے تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں، پولیواور دیگربیماریوں کے خلاف مختلف مہموں میں خطرناک حالات میں بھی اپنے فرائض سرانجام دینے میں لیڈی ہیلتھ ورکرزپیش پیش رہتی ہیں، اس کے باوجودصوبے ان کے حوالے سے ابھی تک بیان حلفی کیوں جمع نہیں کرارہے ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کے قتل پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، صوبائی حکومتیں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سیکیورٹی بہتر بنائیں۔ اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ عدالتی احکام پرعمل کا پروسس جاری ہے، جلدتمام معاملات مکمل کر لیے جائیں گے۔ جلدہی بیانات حلفی عدالت میں جمع کرادیے جائیں گے۔ اس پرعدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ پہلے کافی وقت دیاگیا، مزید وقت نہیں دے سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…