منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ مچھ کے لواحقین بارے وزیراعظم عمران خان نے کیا فیصلہ کیا، نام نہ بتانے کی شرط پر وزراء حقیقت سامنے لے آئے

datetime 9  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد/کوئٹہ(آن لائن) وفاقی وزراء کی اکثریت نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کوئٹہ جا کر ہزارہ کمیونٹی کا دکھ درد بانٹیں، یہ لوگ گزشتہ ایک ہفتے سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور اس وقت تک اپنے پیاروں کی تدفین سے انکار کر رہے ہیں جب تک وزیراعظم آکر ان سے ملاقات نہیں کرتے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے

مطابق جمعہ کو چار وفاقی وزرا سے بات چیت کی اور سب کی رائے تھی کہ وزیراعظم کو کوئٹہ کا دورہ کرنا چاہئے اور احتجاج کرنے والے ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے تاکہ ان کے پیاروں کی تدفین ہو سکے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان وزرا کا کہنا تھا کہ تدفین سے قبل کوئٹہ کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کا اپنا فیصلہ ہے۔ان وزرا کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا تھا اور وزرا کی اکثریت نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی کہ وہ کوئٹہ چلے جائیں۔ان چار میں سے دو وزرا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ دن انتظار کریں تاہم، ان وزرا میں سے ایک نے اس نمائندے کو بتایا کہ بعد میں وزارت داخلہ کی طرف سے بھی وزیراعظم کو مشورہ دیا گیا کہ وہ احتجاج کرنے والے ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں سے جا کر ملاقات کر لیں۔ایک اور وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات میں جب وزیراعظم اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں تو وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرتے۔ ایک وزیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس معاملے میں انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ تدفین سے قبل کوئٹہ نہیں جائیں گے۔عجیب بات یہ ہے کہ جمعہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان باتوں کی تصدیق کی جو وزرا نے جیونیوز سے

کہی تھیں۔وزیراعظم عمران خان کے اس متنازع بیان کے چند گھنٹوں بعد، وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے اپنی ٹوئٹ میں حکومت کی جانب سے ہزارہ کمیونٹی کو جس معاہدے کی پیشکش کی گئی ہے اس کی نقل جاری کی اور کہا جب سب پر اتفاق ہوگیا ہے تو پھرکون سیاست کر رہا ہے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ چار وفاقی وزرا میں سے ایک نے تصدیق کی کہ علی زیدی نے کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے کوئٹہ جا کر ہزارہ کمیونٹی والوں سے ملاقات کرنے کی رائے کی حمایت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…