ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں اب بابا کبھی گھر نہیں آئیں گے، ریحانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا،والد واحد کفیل تھے،سانحہ مچھ کے شہید کی بیٹی کی رُلا دینے والی باتیں

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

لندن، کوئٹہ(آن لائن)  چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں کہ اب بابا کبھی گھر نہیں آئیں گے ریحانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا کیونکہ ان کو ڈاکٹر بنانے والے ان کے والد ہی تھے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ریحانہ کے والد کریم بخش عرف محمد آصف ان دس کان کنوں میں شامل تھے جن کو سینچر اور اتوار کی درمیانی شب

بلوچستان میں مچھ کے علاقے میں قتل کیا گیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریحانہ کا کہنا تھا کہ ان والد گھر کے واحد کفیل تھے۔ریحانہ نے بتایا کہ وہ چار بہن بھائی ہیں جن میں بھائی سب سے چھوٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے بڑی ہیں جبکہ بھائی کی عمر صرف چار سال ہے۔ریحانہ کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے والد محنت مزدوری کے لیے زیادہ تر باہر ہوتے تھے جس کے باعث جب چھوٹا بھائی ہم لوگوں سے کسی بات سے ناراض ہو جاتا تو ہم کہتے کہ جب بابا آئیں گے تو ہم ان کو بتائیں گے۔ہم اپنے چھوٹے بھائی کو اب کیسے بتائیں گے کہ والد اب دنیا میں نہیں رہے اور وہ اب کبھی بھی گھر نہیں آئیں گے۔ریحانہ نے بتایا کہ کوئلہ کانوں میں محنت مزدوری کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کئی ہفتے گھر نہیں آتے تھے بلکہ گھر کو چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت مزدوری کرنے کے بعد ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی گھر آتے تھے۔وہ جب ڈیڑھ دو ماہ بعد گھر آتے تھے تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کئی ہفتے بعد گھر آنے پر ان کی والدہ ان کے والد کے پسند کا کھانا بناتی تھیں تو اس پر وہ بہت خوش ہوتے تھے۔کئی ہفتے بعد جب وہ آتے تھے تو خوشی کا ایسا سماں بندھ جاتا تھا کہ جیسے والد کبھی باہر گئے ہی نہیں لیکن اب ان کے لیے ایک منٹ سال کے برابر لگ رہا ہے۔انھوں

نے کہا کہ ہزارہ قبیلے کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر ان کے والد ایک محنت کش ہونے کے باوجود ان کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ریحانہ کا کہنا تھا کہ اب چونکہ والد دنیا میں نہیں رہے جس کے باعث شاید وہ یہ خواب پورا نہ کر سکیں۔بی بی سی سے گفتگو میں ریحانہ نے استفسار کیا کہ ان کے والد اور دیگر افراد کا کیا قصور تھا کہ ان

کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔انھوں نے کہا کیا ان کا یہ قصور تھا کہ ان کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا یا یہ کہ وہ محنت مزدور ی کرتے تھے۔ریحانہ نے مزید کہا کہ انھیں پیسے نہیں چاہیے بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان آئیں اور انصاف کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے وعدوں کی بجائے اگر انصاف دلایا جائے تو ہم بہنیں اپنے والد کی تدفین خود کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…