جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

میت واپس کرو ورنہ میں خودکشی کرلوں گا، شہید نوجوان کے والد کی دھمکی

datetime 4  جنوری‬‮  2021 |

سرینگر (این این آئی) غیر قانونی طوپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں سرینگر کے علاقے لاوے پورہ میں پیر کے روز بھارتی فوجیوں کے ایک جعلی مقابلے میں شہیدہونے والے 17 سالہ نوجوان اطہر وانی کے والد نے اپنے شہید بیٹے کی میت واپس کرنے کا مطالبہ کرتے

ہوئے کہا ہے کہ اگران کے بیٹے کی میت ان کے حوالے نہ کی گئی تووہ خودکشی کرلے گا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قابض حکام کی طرف سے 30 دسمبر 2020 کو ایک جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے تین نوجوانوںکی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد اطہر وانی کے والد نے پلوامہ کے آبائی گاؤں بیلو میں ایک قبر کھودی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بیٹے کی میت کا انتظار کرے گا یا خودکشی کرلے گا۔ایک ویڈیو پیغام میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے بچوں کو کیوں مارا ہے؟ یہ چھوٹے بچے تھے۔ بھارتی فوج پر تنقید کرتے ہوئے اطہر کے والد نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں پورے بھارت اور اس کے ذرائع ابلاغ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو ایک جھڑپ کے دوران ماراگیا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک جعلی مقابلہ تھا۔میتوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین خاندانوں نے بتایا کہ شہیدہونے والے نوجوان ان کے بیٹے ہیں اوروہ طالب علم تھے جنہیں بھارتی فوجیوں نے ایک جعلی مقابلے میں شہید کیاہے۔ شہیدنوجوانوں کی شناخت بیلو پلوامہ کے اطہر وانی ، پتری گام پلوامہ کے اعجاز گنائی اور ترکہ وانگام شوپیان کے زبیر لون کے نام سے ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…