اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ میں برف نے فن پارے تخلیق کر ڈالے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

مشی گن۔۔۔۔۔ امریکا کے وسطی اور مغربی علاقوں میں شدید سردی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کئی علاقوں میں برفباری تو بعض مقامات پر سردی نے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔ مشی گن جھیل میں سردی کے باعث پنتیس فٹ اونچا لائٹ ہاؤس جم کر رہ گیا ہے۔ لائٹ ہاؤس کے بیشتر حصوں نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے برف کے فن پارے تخلیق کر ڈالے ہوں۔ اس جھیل کا کل رقبہ 22400 مربع میل ہے۔ یہ جھیل رقبے کے اعتبار سے کسی ایک ملک میں موجود سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ جھیل 494 کلومیٹر لمبی اور 190 کلومیٹر چوڑی ہے۔ جھیل کی اوسط گہرائی 85 میٹر ہے جبکہ سب سے نشیبی علاقہ 281 میٹرا گہرا ہے۔ اس میں کل 4918 مکعب کلومیٹر پانی ہے۔ اس کی سطح سطح سمندر سے 176 میٹر بلند ہے اور جھیل ہیرون کی بلندی پر واقع ہے۔ مقامی شہری لائٹ ہاؤس کے اس روپ سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشی گن جھیل کا نام ریڈ انڈین باشندوں کی زبان کے لفظ مشیگامی سے نکلا ہے جس کا مطلب “عظیم پانی” ہے۔ مشی گن جھیل رقبے میں ساؤتھ ایسٹ یورپی ملک کروشیا سے تھوڑی سی بڑی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فرانسیسی مہم جو جین نکولٹ نے 1634 یا 1638 میں مشی گن جھیل دریافت کی۔ مشی گن جھیل کے ساحل پر پہلی بار 1779ء4 میں آباد کاری شروع ہوئی تھی۔ ا?ج مشی گن جھیل کے کنارے پر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…