جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی کا ردعمل آگیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ریاست کے لیے خطرہ قرار دینا حقیقت سے انحراف ہے۔ ریاستی مؤقف کو سیاسی تنازع کا حصہ بنانا قومی اتحاد کو کمزور کرتا ہے، جبکہ اختلافِ رائے کو دشمنی سے جوڑنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔مزید کہا گیا کہ ریاستی اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت، اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ منتخب نمائندوں کے خلاف جارحانہ لب و لہجہ سیاسی فضا کو مزید تناؤ کا شکار بناتا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر دیے گئے حالیہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئینی حدود و اختیارات کی یاد دہانی ناگزیر ہو چکی ہے۔اعلامیے کے مطابق ملک دہشتگردی اور شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ قومی ترجیحات کا درست تعین کیا جائے۔

کسی ایک فرد کو نشانہ بنا کر ملک کی سیاسی حقیقت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ پاکستان کی مضبوطی کو فوج کی مضبوطی سے مشروط کرتے آئے ہیں۔پارٹی نے بھارتی جارحیت کے موقع پر شریف خاندان کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے قید کے دوران بھی مسلح افواج کی کھل کر حمایت کی۔ جبکہ آج ان کی بہنوں کی میڈیا پر موجودگی پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، مگر ماضی کے دوہرے معیار پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پارٹی کے مطابق نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی بھارتی صحافیوں کے ساتھ تصاویر سب کے سامنے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کا مؤثر دفاع عمران خان نے کیا۔کشمیر کے مسئلے سے متعلق کہا گیا کہ عمران خان نے عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی سے تعبیر کرنا جمہوری نظام کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق آئی ایم ایف، معاشی صورتحال، ترسیلات اور انتخابی شفافیت جیسے معاملات خالصتاً سیاسی نوعیت رکھتے ہیں۔ کسی سیاسی رہنما کے ہر مؤقف کو سیکیورٹی خطرہ قرار دینا دراصل سیاسی انتقام کا ہتھیار ہے۔ عمران خان کے خلاف ناقدانہ نہیں بلکہ اہانت آمیز لہجہ پوری قوم کی سیاسی بصیرت کی توہین ہے۔پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں، اور 8 فروری کے انتخابات میں عوام نے عمران خان کو واضح مینڈیٹ دیا، جسے فارم 47 کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ پارٹی کے دعوے کے مطابق اس مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی نشاندہی ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں نے بھی کی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم ووٹ کے تقدس اور عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔ عمران خان نے ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا لیکن طاقت کے مراکز نے ان کے مینڈیٹ اور مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کے خلاف اقدامات حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔پی ٹی آئی نے کہا کہ اداروں کا سیاسی معاملات میں فریق بننا ریاستی مفاد کے خلاف ہے۔

پارٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات کو غیرپیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن پر سیاست کا آغاز پی ٹی آئی نے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) نے کیا۔ سرکاری وزراء کے بیانات بھی حکومت کی گھبراہٹ اور اندرونی تقسیم کی نشانی بتائے گئے۔میڈیا آزادی کے حکومتی دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان کا نام اور تصویر اب بھی سنسر کی جا رہی ہے جو اظہارِ رائے کی بنیادی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔آخر میں پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں استحکام کی واحد صورت عوامی مینڈیٹ کا احترام، صاف اور شفاف انتخابات اور آئین کی حقیقی بالادستی ہے۔ جب تک عوام کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا، سیاسی بحران ختم نہیں ہو سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…