اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سر میں گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے والے آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز دم توڑ گئے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سڈنی۔۔۔۔آسٹریلیا کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ شیفلڈ شیلڈ کے ایک میچ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے سر میں گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے والے نوجوان بلے باز فلپ ہیوز دم توڑ گئے۔سڈنی کے ونسٹ اسپتال میں 2 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے والے فلپ ہیوز کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا اور انہیں مصنوعی سانس سے زندہ رکھنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن وہ تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوسکے۔ کرکٹ آسٹریلیا نے فلپ ہیوز کے مرنیکی تصدیق کر دی ہے۔ 26 سالہ فلپ ہیوز نے 26 ٹیسٹ، 25 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ایشین ڈان بریڈ مین کا بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے کا واقعہ کوئی انوکھا نہیں ہے لیکن موت کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ فلپ ہیوز کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے اور پوری کرکٹ برادری اس غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہیلمٹ بنانے والی کمپنیوں کو مزید احتیاط کرنی پڑے گی۔ فلپ ہیوز کی موت کی خبر سن کر سابق جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیوی بلے باز کی موت کی خبر سن کر دکھ ہوا جب کہ سری لنکن بلے باز مہیلا ج وردنے نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سابق آسڑیلوی وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کا کہنا تھا کہ فلپ ہیوز کی موت کی خبرکا یقین ہی نہیں آ رہا۔ شاہد آفریدی نے بھی فلپ ہیوز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے جب کہ ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل کا کہنا ہے کہ فلپ ہیوز کی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی۔
واضح رہے کہ فلپ ہیوز 3 روز قبل آسٹریلیا کے سڈنی گراؤنڈ میں شیفلڈ شیلڈ ٹورنامنٹ کے میچ کے دوران فاسٹ بالر سین ایبٹ کا باؤنسر سر میں لگنے کے باعث بے ہوش ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے سر کی 2 سرجریز بھی کی گئیں لیکن ڈاکٹرز نے ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…