بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سر میں گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے والے آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز دم توڑ گئے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سڈنی۔۔۔۔آسٹریلیا کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ شیفلڈ شیلڈ کے ایک میچ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے سر میں گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے والے نوجوان بلے باز فلپ ہیوز دم توڑ گئے۔سڈنی کے ونسٹ اسپتال میں 2 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے والے فلپ ہیوز کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا اور انہیں مصنوعی سانس سے زندہ رکھنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن وہ تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوسکے۔ کرکٹ آسٹریلیا نے فلپ ہیوز کے مرنیکی تصدیق کر دی ہے۔ 26 سالہ فلپ ہیوز نے 26 ٹیسٹ، 25 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ایشین ڈان بریڈ مین کا بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو گیند لگنے کے باعث زخمی ہونے کا واقعہ کوئی انوکھا نہیں ہے لیکن موت کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ فلپ ہیوز کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے اور پوری کرکٹ برادری اس غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہیلمٹ بنانے والی کمپنیوں کو مزید احتیاط کرنی پڑے گی۔ فلپ ہیوز کی موت کی خبر سن کر سابق جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیوی بلے باز کی موت کی خبر سن کر دکھ ہوا جب کہ سری لنکن بلے باز مہیلا ج وردنے نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سابق آسڑیلوی وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کا کہنا تھا کہ فلپ ہیوز کی موت کی خبرکا یقین ہی نہیں آ رہا۔ شاہد آفریدی نے بھی فلپ ہیوز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے جب کہ ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل کا کہنا ہے کہ فلپ ہیوز کی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی۔
واضح رہے کہ فلپ ہیوز 3 روز قبل آسٹریلیا کے سڈنی گراؤنڈ میں شیفلڈ شیلڈ ٹورنامنٹ کے میچ کے دوران فاسٹ بالر سین ایبٹ کا باؤنسر سر میں لگنے کے باعث بے ہوش ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے سر کی 2 سرجریز بھی کی گئیں لیکن ڈاکٹرز نے ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…