پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ،مریم نواز کی موجودگی میں محمود خان اچکزئی نے لاہوریوں کی توہین کر دی‎

datetime 13  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی) پختوانخواہ عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم نے پی ڈی ایم مستی موچ کے لئے نہیں بنائی بلکہ ہم ملک کی ازسر نو تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔پی ڈی ایم کے زیر اہتمام مینار پاکستان پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو طعنہ دینے نہیں آئے ، ہم نے اپنی بساط کے مطابق سامراج کا مقابلہ کیا ، ہر گلی میں،

ہر ندی، ہر پہاڑ میں مقابلہ کیا لیکن ہمیں گلہ ہے ہندوستان کے ہندو ئوں، سکھوں اور تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا اور سب نے مل کر افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنا تو پشتون اوربلوچ کی نمائندگی نہیں تھی ،خان عبد الغفار خان نے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا لیکن ہمارے اس حلف کی کوئی قدر و قیمت نہیں دی گئی اور ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ باچا خان کی اسمبلی توڑ دی گئی اور تھوڑی ہی دیر میں پشتونوں کو خون سے نہلا دیا گیا ، ان کا قصور کیا تھا ، ہم صرف یہ چاہتے تھے ووٹ کو عزت دو ، ہم یہ چاہتے تھے کہ آئین کو عزت دو ، لاہو روالو میں معافی چاہتا ہوں، آپ نے نیا آئین بننے نہیں دیا او رہماری مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ، بنگلہ کی اکثریت کو کم کرنے کے لئے ون یونٹ کا ڈرامہ رچایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پشتون ، بلوچ اور سندھی آپ کے پاس آئے ہیں ہمیں آپ سے ایک وعدہ لینا ہے ، اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان قوموں کی قطارمیں با عزت وقار حاصل کرے تو ہم سے محرومیوں کے ازالے کا وعدہ کرنا ہوگا ۔ہم بھی آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ایک جمہوری اسلامی ملک کی تشکیل کے لئے آپ کے ساتھ ہیں، ہم ایک پاکستان کی تشکیل کرنا چاہتے ہیںجس پر انسان کا نسان کا ظلم نہیں ہوگا ، قوم کا قوم پر ظلم نہیں ہوگا کسی طبقے کا کسی طبقے پر ظلم نہیں ہوگا ۔ انہوںٰ نے کہا کہ ہم کسی سے خیرات او رزکوۃ نہیں چاہتے ، ہمارے ساتھ ایک وعدہ کریں ہمار ی زمین پر جو نعمتیںپیدا ہوتی ہیںاس پر ہمارے بچوں کا پہلا حق تسلیم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’’وہ ‘‘نہیں مانتے تو پھر انقلاب کی بات پکی ہو گئی ہے، یہاں پر ترکی کی طرز پر انقلاب کی بات پکی ہو گئی ہے ،حالات انقلاب کیلئے پکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…