پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ذخیرہ اندوزوں، مہنگائی مافیا کو 4بیورو کریٹس کی سپورٹ حاصل پی ٹی آئی حکومت کیخلاف ہونیوالی خوفناک ساز ش بے نقاب

datetime 22  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک بھر میں اس وقت مہنگائی عروج پر ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی نیندیں بھی اڑیں ہوئی ہیں ، عوام کی جانب سے انہیں شدید ردعمل کا سامنا ہے ،اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کی ڈیوٹی لگائی ہے ، بظاہر مہنگائی کے

خلاف آپریشن میں سامنے صرف ٹائیگر فورس ہے در حقیقت 3 اداروں کو ڈیوٹی سونپی گئی ہے جنہوں نے اپنی ابتدائی رپورٹس بھی مرتب کرلی ہیں، جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اچانک چیزیں مارکیٹ سے کس طرح غائب ہوگئیں؟ اچانک ان کی قیمتیں کیسے بڑھ گئیں؟ ایک چیز موجود ہونے کے باوجود نہیں ملتی، اگر کوئی چیز وافر مقددار میں بھی موجود ہو تو اچانک اسے غائب کردیا جاتا ہے، کون انتظامیہ اور حکومت کوناکام کر رہا ہے، اس بارے میں جو رپورٹس آئی ہیں ان میں بہت خوفناک انکشافات کیے گئے ہیں، ان خیالات کا اظہار معروف صحافی رانا عظیم نے کیا۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ اداروں کی رپورٹس میں پاکستان کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکونز کے نام سامنے آئے ہیں، جن کے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی معلومات بھی ملی ہیں، جن سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کون کس کے کہنے پر ملک میں مصنوعی قلت پیدا کررہا ہے ، جب ان کے نام سامنے آئیں گے تو

پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی تاریخ کا بہت خوفناک سلسلہ ہوگا،انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین روز میں بہت سارا مال پکڑاجانا بھی ان ہی تین اداروں کی کارروائی کا نتیجہ ہے، کیوں کہ ٹائیگر فورس والے سی آئی اے میں تو کام نہیں کرتے، اس سارے معاملے میں کوئی ہے جو پیچھے

رہ کر کام کررہا ہے، کیونکہ پاکستان کے اداروں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اس مہنگائی اور مافیاکو کنٹرول کریں گے، آج سے 12دن بعد زمین آسمان کا فرق نظر آجائے گا، کیوں کہ بہت بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ پڑنے لگا ہے، ان کا چاہے حکومت سے تعلق ہو یا وہ کسی اور سیاسی

جماعت سے ہوں،چاہے کسی بڑے بزنس گروپ سے تعلق رکھتے ہوں،سب گرفتار ہوں گے، ان کی لسٹیں تیار ہوچکیں، جن کی بنیاد پر گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی، اس سلسلے میں 4 بڑے بیوروکریٹس کے خلاف بھی اگلے ایک ہفتے میں کارروائی ہوجائے گی، جن پر سب سے بڑا الزام یہ ہوگا کہ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی مافیا کو سپورٹ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…