منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے آنکھوں کے ٹشوز بھی متاثر ہونے کا انکشاف

datetime 12  اکتوبر‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)ویسے تو وبا کے آغاز سے ہی نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو نظام تنفس کا مرض قرار دیا جارہا ہے مگر یہ جس کے مختلف اعضا پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔ماہرین کو کئی ماہ سے شبہ تھا کہ یہ بیماری آنکھوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور اب اس حوالے سے مزید براہ راست شواہد سامنے آئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دریافت چین سے تعلق رکھنے والی

ایک مریضہ میں ہوئی جس میں کووڈ 19 سے صحتیابی کے فوری بعد آنکھوں کے دائمی موتیا کا مرض ہوگیا تھا۔خاتون کے ڈاکٹر نے موتیا کے علاج کے لیے سرجری کی اور آنکھوں کے ٹشوز کے معائنے سے ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔طبی جریدے جرنل جاما آپٹمالوجی کے آن لائن ایڈیشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اس کیس سے ثبوت ملتا ہے کہ نیا کورونا وائرس نظام تنفس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے ٹشوز کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔یہ 64 سالہ مریضہ 31 جنوری کو کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں داخل ہوئی تھی اور 18 دن بعد علامات ختم ہوگئی تھیں اور پی سی آر ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا۔ووہان کے جنرل ہسپتال سینٹرل تھیٹر کمانڈ کے ماہرین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے اس خاتون کی ایک آنکھ میں تکلیف اور بینائی ختم ہونے لگی تھی، جبکہ دوسری آنکھ میں کچھ دن بعد ایسا ہوا۔محققین نے بتایا کہ ان نمونوں کے ٹیسٹوں سے شواہد ملے کہ کورونا وائرس نے آنکھوں کے ٹشوز پر حملہ کیا تھا۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ وائرس مریضہ کی آنکھوں تک کیسے پہنچا، مگر ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس کیس سے آنکھوں کے تحفظ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔انفیکشیز ڈیزیز آف امریکا کے ایک ترجمان ڈاکٹر آرون گیات کے مطابق یہ شبہ پہلے ہی کیا جارہا تھا کہ آنکھوں کا بیرونی اور اندرونی حصہ نوول کورونا وائرس کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ طبی عملے کو اپنی آنکھوں کے تحفظ کے لیے چشمے یا فیس شیلڈ کے استعمال کی ہدایت کی جاتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں یہ تو ممکن نہیں کہ وہ کووڈ 19 کا شکار آنکھوں کے ذریعے ہوا، مگر اس بات کا امکان ضرور ہے کہ ہوا میں موجود وائرل ذرات یا سطح کو چھونے کے بعد وائرس سے آلودہ ہاتھ آنکھوں کو جھونے سے وائرس وہاں پہنچ گیا۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مریضوں کے آنکھوں میں وائرس کی موجودگی مسائل کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…