اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

ایسا لگتا ہے ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیوی سیلنگ کلب کے حوالے سے سی ڈی اے کو اہم حکم جاری

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف کیس میں ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں اور قانون کی عملدراری یقینی بنانے کیلئے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی۔ہفتہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رنیوی سیلنگ

کلب کی تعمیر اور نیول فارمز کے خلاف کیس کی سماعت کی۔سماعت میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین علی احمد پیش ہوئے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت میں آپ کو بار بار طلب کرنا بڑا ناخوشگوار ہوتا ہے لیکن معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مکمل طور پر لاقانونیت ہے قانون تو کہیں پر نظر ہی نہیں آتا، ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں، جب بھی معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔انہوں نے چیئرمین سی ڈی سے استفسار کیا کہ ماسٹر پلانرز میں زون تھری اور زون فور سے متعلق کیا پلان بنایا گیا تھا جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ زون فور کو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا۔چیئرمین سی ڈی نے بتایا کہ اسلام آباد میں جو زمینیں حاصل کی گئیں ان کے معاوضے آج تک بھی مکمل ادا نہیں کیے گئے۔چیئرمین سی ڈی نے کہا کہ 30 سالوں میں معاوضہ تو ادا نہیں کیا گیا لیکن فراڈ کی حوصلہ افزائی کی گئی، جعلی کاغذات بنائے گئے جس میں سی ڈی اے کے افسران بھی ملوث رہے۔چیف جسٹس سے دریافت کیا کہ کیوں ایف آئی اے اور آئی بی ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں، اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں اشرافیہ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سی ڈی اے سے دریافت کیا کہ کیا آپ کا کوئی اہلکار

نیول ہیڈ آفس میں چھاپہ مار سکتا ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے جو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہے وہ یہ کیسے روک سکتی ہے، مفادات کا ٹکراؤ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ان چیزوں سے قانون پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کہا کہ آپ قانون پر عملدرآمد کرانے کے لیے متعلقہ اتھارٹی ہیں، جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے

ایکشن لے رہا ہے کل میں نے ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق بھی بریفنگ لی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کیس میں آپ قانون پر عملدرآمد نہیں کروا پا رہے، کیا آپ کوئی ایکشن لے سکتے ہیں، اس عدالت کو سچ بتائیں جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ مشکل ہے میں اس بات کو مانتا ہوں لیکن ہم اپنی کوشش کریں گے۔چیئرمین سی ڈی نے بتایا کہ 1992 میں ماسٹر پلان میں ترمیم کر کے

زون فور میں 20 کنال کے فارمز کی اجازت دی گئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے چیئرمین سی ڈی اے ہیں جو چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے، کیا ریونیو افسر بھی ان دونوں عہدوں کے ماتحت آتا ہے؟جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ 2 چیئرمین سی ڈی اے چیف کمشنر بھی رہ چکے اور ریونیو افسر دونوں عہدوں کے ماتحت ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے زون 4

کے رقبے کے بارے میں سوال کیا جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ زون فور پہلے 1600 کنال رقبے پر تھا اب 400 کنال باقی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے جائزہ لیا کہ 400 کنال رقبے کی پوری زمین موجود ہے، قبضہ تو نہی ہوا، کیا آپ کو معلوم ہے یہاں مافیا ہے؟چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد میں شاملات پر قبضہ کرنا بہت مشکل کام ہے، جب تک ریونیو اور پولیس

دونوں شامل نہ ہوں قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے ضلعی عدالتوں کی حالت دیکھی ہے وہاں کوئی انسان جا نہیں سکتا، عام آدمی وہاں جاتے ہیں اس لیے ضلعی عدالتوں کا یہ حال ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اشرافیہ پر قانون نافذ نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں نہیں جاتے۔بعدازاں عدالت نے پاکستان نیول فارمز کی تعمیرات روکنے کے حکم اور راول جھیل کے کنارے

نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے حکم امتناع میں 26 ستمبر تک توسیع کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے کو عدالتی حکم امتناع پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ٹیم بھیج کر چیک کریں اور رپورٹ پیش کریں۔ساتھ ہی ہدایت کی کہ

چیئرمین سی ڈی اے قانون کی عمل داری یقینی بنانے کا بیان حلفی جمع کرائیں اور کیسز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم بھی دیا۔بعدازاں راول جھیل کے کنارے تعمیرات کے خلاف کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتہ 26 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…