ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایک دہائی کا بدترین سیلاب،بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ مون سون بارشوں کے بعد زیر آب،51لاکھ افراد شدید متاثر

datetime 15  جولائی  2020 |

ڈھاکا(این این آئی)بنگلہ دیش کے سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے بتایاہے کہ ایک دہائی کی ریکارڈ طوفانی بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیش کے سیلاب کی پیش گوئی

اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے بتایا کہ یہ ایک دہائی کا بدترین سیلاب ہے،شدید بارشوں کی وجہ سے دو اہم ہمالیائی دریا متاثر ہوئے ، برہم پتر اور گنگا، جو بھارت اور بنگلہ دیش سے گزرتے ہیں،عارف الزمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے اور گائوں کے گھروں اور سڑکوں کے ساتھ کم از کم 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ۔ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار فاروق احمد نے کو بتایا کہ شمال وسطی بنگلہ دیش میں دریائے برہم پتر معمول سے 40 سینٹی میٹر اونچی ہے اور جس سے اس کے پھٹنے کا خطرہ تھا۔انہوںنے بتایا کہ زیادہ تر دیہاتی اپنے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے قریب ہی رہنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم تقریبا 15 ہزار شدید متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرگئے۔10 روز کی پیشگوئی کے ساتھ بڑھتے ہوئے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عارف الزمان نے کہا کہ اگر مزید دریائوں کے کنارے پھٹ گئے تو ملک کا 40 فیصد حصہ انتہائی خراب صورتحال میںسیلاب کی زد میں آسکتا ہے۔شمالی قصبے بسوامبھر پور کے دیہاتیوں نے بتایا کہ شمال مشرقی بنگلہ دیش کا ایک بڑا دریا سورما کے کنارے پھٹ جانے کے بعد زیادہ تر مکانات جزوی طور پر زیر آب آگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…