ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سوڈان کی حکومت کا اسلامی قوانین کے کچھ حصے ختم کرنے کا اعلان

datetime 13  جولائی  2020 |

خرطوم (این این آئی )افریقی ملک سوڈان نے غیر مسلموں کو شراب پینے کی اجازت دینے کے ساتھ ہی مرتد کی سزائے موت کو ختم کرنے اور خواتین کے ختنے جیسی روایت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سوڈان کی نئی حکومت نے گزشتہ تقریبا چالیس برسوں سے نافذ سخت اسلامی قوانین میں بعض نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو ہنگامہ اور فساد برپا نہ کرنے کی شرط

پر شراب پینے کی اجازت دی جائے گی۔ سوڈان میں شرعی قوانین کے مطابق مرتد کی سزا موت ہے تاہم ملک کے وزیر انصاف نصیر الدین عبد الباری نے ایسے قوانین میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے گا اور خواتین کے ختنے جیسی روایات پر پابندی عائد کی جائے گی۔ملک کے وزیر انصاف نصیرالدین عبد الباری نے سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اب سوڈان غیر مسلوں کو اس شرط پر شراب پینے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس سے امن امان کو خراب نہیں کریں گے اور سر عام شراب پینے سے گریز کریں گے۔سوڈان کے سابق صدر جعفر النمیری نے سن 1983 میں ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے شراب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے شراب پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت خرطوم میں وہسکی کی بوتلیں دریائے نیل میں غرق کردی تھیں۔ شرعی قوانین کے مطابق مسلمانوں کے لیے شراب پینا حرام ہے تاہم مسلم اکثریتی ملک سوڈان میں مسیحی برادری کی بھی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق سوڈان کی نئی حکومت نے گزشتہ تقریبا چالیس برسوں سے نافذ سخت اسلامی قوانین میں بعض نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو ہنگامہ اور فساد برپا نہ کرنے کی شرط پر شراب پینے کی اجازت دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…