پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

قربانی کی رقم صدقہ کرنے سے واجب ادا نہیں ہوگا، ڈاکٹرراغب نعیمی نے انتہائی اہم بات بتا دی

datetime 11  جولائی  2020 |

لاہور(این این آئی )دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبراسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ قربانی کی رقم صدقہ کرنے سے واجب ادا نہیں ہوگا۔شریعت کی روشنی میں ہرصاحب نصاب مسلمان پرقربانی کرناواجب ہے۔قربانی شریعت کا ایک مستقل حکم ہے، اورشعائر اسلام میں سے ہے اسے شریعت کے حکم کے مطابق بجالانا ضروری ہے، اسلام نام ہی فرمانبرداری کا ہے۔قربانی کے

ایام میں اللہ تعالی کے نزدیک جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے، قربانی کا اصل مقصد جان کا نذرانہ پیش کرنا ہے، قربانی کاایک مقصد مسلمانوں میںجہاد کاجذبہ پیدا کرنابھی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزجمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ ایام قربانی میں قربانی کرنا ہی ضروری ہے ،قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا یہ قربانی کا نہ بدل ہے اور نہ ہی اس سے قربانی کا فریضہ ساقط ہوتا ہے تاہم اس سال کرونا وائرس کے باعث صاحب نصاب حضرات واجب قربانی کر لیں اور نفلی قربانی کو اس سال ترک کر کے اس کے پیسے غرباء و مساکین میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…