ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

زرداری اور اویس ٹپی کے کہنے پر شوگر ملز پر قبضے کیے،بلاول ہائوس کے قریب بنگلوں اور فلیٹس کو زبردستی خالی کرایا،عزیر بلوچ کا ضابطہ فوجداری دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ حلفیہ بیان سامنے آ گیا ، ہوشربا انکشافات

datetime 4  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کا ضابطہ فوجداری دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ حلفیہ بیان سامنے آ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے 29 اپریل 2016 کو عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا تھا، بیان حلفی میں انھوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر سنگین الزامات لگائے۔

عزیر بلوچ نے کہا کہ اس نے پی پی شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اویس ٹپی کے کہنے پر شوگر ملز پر قبضے کیے، قبضہ کی گئیں شوگر ملز کو بعد میں کم دام میں فروخت کیا گیا۔بیان حلفی میں عزیر بلوچ نے کہاکہ آصف زرداری کے کہنے پر اس نے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہائوس بھجوائے، بلاول ہائوس کے قریب بنگلوں اور فلیٹس کو زبردستی خالی کرایا، سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملاقات کی، آصف زرداری اور فریال تالپور نے دو مقدمات اور ہیڈ منی ختم کرائی، 2013 آپریشن کے پیش نظر فریال تالپور نے اپنے گھر بلوایا، فریال تالپور کے گھر پر شرجیل میمن اور نثار مورائی موجود تھے۔بیان حلفی کے مطابق عزیر بلوچ الیکشن 2013 میں سینیٹر یوسف بلوچ کے ذریعے فریال تالپور سے رابطے میں رہا، شاہ جہان بلوچ، جاوید ناگوری، عبداللہ بلوچ اور ثانیہ ناز کو ٹکٹ دلوایا۔عزیر بلوچ نے بتایا کہ 2013 میں رینجرز کے اہل کاروں کو قتل کرا کر الزام مخالفین پر لگوایا، ایس پی اقبال بھٹی کو لیاری میں تعینات کرایا، ذوالفقارمرزا، قادر پٹیل اور یوسف بلوچ کے ذریعے پولیس افسران کی تعیناتی کرائی، ایس ایس پی چوہدری اسلم کے ساتھ کئی پولیس مقابلے ہوئے، پولیس افسران کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔عزیر بلوچ نے بیان میں کہاکہ پارٹی کے کہنے پر اس نے کئی غیر قانونی کام کیے، قادر پٹیل کے کہنے پر سرکاری زمینوں پر قبضے کیے، سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر 500 جرائم پیشہ افراد کو نوکریاں دلوائیں، ایران کی خفیہ ایجنسیوں سے بھی رابطے میں رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…