پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں دھماکہ ، شہادتیں 

datetime 19  جون‬‮  2020 |

گھوٹکی /کراچی (این این آئی) گھوٹکی میں گوشت کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 2 رینجرز اہلکار اور ایک شہری شہید اور تین اہلکار زخمی ہوگئے ۔مقامی پولیس کے مطابق دھماکا گھوٹا مارکیٹ کے قریب گوشت کی دکان میں ہوا جہاں سے رینجرز اہلکار روزانہ گوشت خریدا کرتے تھے ، جائے وقوع کے قریب رینجرز موبائل بھی کھڑی تھی۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) فرخ لونجر کے مطابق دھماکے کے

فوری بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ بم پہلے سے نصب کیا گیا تھا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق شہید رینجرز اہلکاروں کی شناخت ظہور احمد اور فیاض احمد کی نام سے ہوئی ، راہ گیر غلام مصطفی بھیو بھی جاں بحق ہوگیا۔علاوہ ازیں پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے افراد کو سول ہسپتال گھوٹکی منتقل کردیا گیا۔بعدازاں دھماکے کی تفتیش کے لیے جانے والی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کو حادثہ پیش آنے کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔افسر قادر بخش نے بتایا بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی سکھر سے گھوٹکی جارہی تھی کہ سکھر موٹروے پر سانگی کے مقام پر الٹ گئی۔انہوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ادھرگورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ سندھ رینجرز ہمارے صوبے میں امن کی علامت ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ہمارے ہیروز کی جانیں بزدلانہ حملوں میں گئیں، کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے گھوٹکی میں رینجرز موبائل پر حملے میں رینجرز اہلکاروں اور ایک شہری کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور اس گھناؤنے واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے رینجرز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی

قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ گھوٹکی واقعہ اور کراچی میں حملہ صوبے کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوں گے، حکومت دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائے گی۔علاوہ ازیں وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز پر حملے بزدلانہ کارروائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سیکورٹی اہلکاروں کو

فوری طور پر بہترین طبی امداد فراہم کی جائے، ملک دشمن عناصر ایسی کارروایئوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاک فوج، رینجرز، پولیس کی قربانیاں لازوال ہیں اور کومت سندھ اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ صوبے میں سخت ترین سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو سخت ترین کارروائی کے ذریعے ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…