اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مساجد میں نمازوں پر پابندی جلد خاتمہ ۔۔  سعودی وزارت مذہبی امورنے خوشخبری سنادی 

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)وزارت مذہبی امور نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی پابندی کو ماہرین صحت کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔سعودی اخبار سعودی گزٹ کے مطابق وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبدالطیف آل شیخ نے باجماعت نمازوں پر عائد عارضی پابندی کو ختم کیے جانے کی افواہوں کے بعد وضاحت کی کہ جب تک صحت سے متعلق اعلیٰ اداروں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے

لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے ہدایات نہیں کی جاتیں تب تک عارضی پابندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اسلامی امور کا کہنا تھا کہ وزارت مذہبی امور کی خواہش ہے کہ مساجد میں باجماعت نمازوں پر عائد عارضی پابندی کو جلد سے جلد ختم کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ماہرین صحت کی ہدایات کے بعد ہی کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے مساجد میں باجماعت نمازوں پر عارضی پابندی عوام کی حفاظت کے لیے ہی لگائی، کیوں کہ کورونا کی وبا زیادہ لوگ سے پھیلتی ہے اور ماہرین صحت نے ہی ایسی تجویز دی تھی۔شیخ عبدالطیف آل شیخ نے کہا کہ مذہب اسلام نے انسانی زندگی کے تحفظ کی بات کی ہے اور اسلام میں انسانی زندگی کی سلامتی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں اور اسی پیش نظر ماہرین نے دیگر سرگرمیوں کی طرح مساجد میں اجتماعی طور پر نمازیں ادا کرنے پر عارضی پابندی کی تجویز دی۔وزیر مذہبی امور کے مطابق سعودی حکومت کے مختلف ادارے اور ماہرین صحت اس کوشش میں ہیں کہ جلد سے جلد کورونا جیسی وبا پر قابو پایا جا سکے اور جیسے ہی معاملات بہتر ہوئے تو مساجد میں اجتماعی نمازوں کی اجازت دے دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…